اوگرا کی سالونٹ آئل کی نگرانی سے متعلق اپنے قانونی اختیارات کی وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 18 اکتوبر2025ء) آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے واضح کیا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت کے مطابق پٹرولیم مصنوعات میں سالونٹ مکسنگ کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے اتھارٹی اپنے قانونی اختیارات کے دائرے میں رہتے ہوئے اقدامات کر رہی ہے۔ہفتہ کوترجمان اوگرا نے جاری بیان میں کہا کہ اوگرا آرڈیننس 2002 کی شق 30 کے تحت تمام لائسنس یافتہ کمپنیوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی سرگرمیوں اور مصنوعات سے متعلق معلومات فراہم کریں۔
(جاری ہے)
اس تناظر میں اوگرا کی جانب سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے سالونٹ آئل کے بارے میں معلومات طلب کرنا اس وسیع تر کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد صنعتی استعمال کے لیے مخصوص مصنوعات کو موٹر پٹرول کے ساتھ ملاوٹ یا غلط استعمال سے روکنا ہے تاکہ معیار، صارفین کے تحفظ اور سرکاری محصولات کو یقینی بنایا جا سکے۔بیان میں مزید کہا گہا ہے کہ اوگرا شفافیت، منصفانہ مسابقت اور ریگولیٹری تعمیل کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور ملک بھر میں معیاری پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی اور عوامی مفاد کے تحفظ کو یقینی بنا رہی ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔