ائیربس طیاروں کا سافٹ ویئر فوری اپ ڈیٹ کرنےسے متعلق قومی ایئرلائن نے وضاحت جاری کردی
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
کراچی (ویب ڈیسک) قومی ائیرلائن پی آئی اے نے یورپی طیارہ ساز کمپنی ائیربس کی جانب سے اے 320 طیاروں کا سافٹ ویئر فوری طور پر اپ ڈیٹ کرنےکے فیصلے سے متعلق وضاحت جاری کردی، خیال رہے کہ ائیربس نے اے 320 طیاروں کا سافٹ ویئر فوری طور پر اپ ڈیٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے باعث دنیا بھر میں 6 ہزار طیارے متاثر ہوسکتے ہیں اور پروازوں میں تاخیر ہوسکتی ہے۔
کمپنی کی جانب سے سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کے فیصلے کے بعد امریکن ائیر لائنز، ڈیلٹا ائیر لائنز، ائیر نیوزی لینڈ اور ترکش ائیرلائنز سمیت کئی کمپنیوں نے پروازوں میں خلل کا انتباہ جاری کیا ہے۔
اس حوالے سے قومی ائیرلائن پی آئی اے نے جاری بیان میں کہا ہے کہ ائیربس طیاروں کے فلائٹ کنٹرول سافٹ ویئر ELAC-L104 سے متعلق مسئلے کے بارے میں یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ پی آئی اے نے یہ خراب سافٹ ویئر پیچ انسٹال ہی نہیں کیا، اسی لیے ہمارے تمام طیارے مکمل طور پر محفوظ ہیں اور پروازوں میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہوگی۔
این اے 18: مخصوص عناصر ضمنی انتخابات کو متنازع بنا رہے ہیں، الیکشن کمیشن
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سافٹ ویئر
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔