پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں ایک شاندار اور پروقار پاسنگ آؤٹ پریڈ کا انعقاد کیا گیا جس میں تربیت مکمل کرنے والے کیڈٹس نے وطنِ عزیز کے دفاع اور قوم کی خدمت کے لیے ہر ممکن قربانی دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

کاکول میں تقریب کے دوران نوجوان کیڈٹس نے نظم و ضبط، حب الوطنی، اور پیشہ ورانہ مہارت کی اعلیٰ مثالیں پیش کیں۔

کیڈٹس نے کہا کہ پی ایم اے نے اُنہیں نہ صرف عسکری تربیت دی بلکہ کردار، قیادت، اور خدمتِ وطن کا جذبہ بھی پیدا کیا۔

اکیڈمی سینئر انڈر آفیسر احمد مجتبٰی عارف راجہ نے کہا کہ "میں نے پاکستان ملٹری اکیڈمی میں قوم سے گہری محبت اور وابستگی کے اظہار کے لیے شمولیت اختیار کی۔ جوش، لگن اور عزم کے ساتھ ہمیشہ قوم کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کروں گا۔

پریزیڈنٹ گولڈ میڈل حاصل کرنے والے بٹالین سینئر انڈر آفیسر زوہیر حسین نے کہا کہ "پی ایم اے نے شخصیت نکھارنے کے ساتھ قوم کی خدمت، وفاداری اور بہادری کا گہرا احساس پیدا کیا۔"

جینٹل مین کیڈٹ سید حاشر حسن نے کہا کہ "پی ایم اے نے حوصلے اور ایمانداری کے ساتھ پاکستان کا دفاع کرنے کا جذبہ پیدا کیا۔"

کورس انڈر آفیسر شہیر علی نے کہا کہ "پی ایم اے میں گزارا وقت ایک بہترین اور سبق آموز سفر رہا جس نے ہمیں چیلنجز سے بھرپور دنیا میں عزت و وقار کے ساتھ خدمت کے لیے تیار کیا۔"

نیپال سے تعلق رکھنے والے کمپنی جونیئر انڈر آفیسر ٹیکراج راوت کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اوورسیز گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ "پاکستان میں اپنے وطن نیپال کی نمائندگی کرنا میرے لیے بے حد اعزاز کی بات ہے۔ یہ سفر نظم و ضبط، دوستی اور ناقابلِ فراموش یادوں سے بھرپور رہا۔"

کورس انڈر آفیسر سید محمد ہادی نے کہا کہ "مجموعی طور پر بہترین کیڈٹ ہونے پر کمانڈنٹ کین حاصل کرنا فخر کا لمحہ ہے۔ پی ایم اے نے ہمیں مشکل حالات میں ثابت قدم رہنے اور صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع دیا۔"

کورس انڈر آفیسر ہادیہ نے کہا کہ "مجھے اپنے کورس کی بہترین لیڈی کیڈٹ ہونے پر کمانڈنٹ کین سے نوازا گیا، قوم کی خدمت کا خواب دیکھنے والی نوجوان خواتین کے لیے ایک رول ماڈل بننا چاہتی ہوں۔"

بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی کورس سپورٹس سارجنٹ جنتُ ال ماویٰ کو بہترین فرینڈلی کنٹری لیڈی کیڈٹ قرار دیا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ "پی ایم اے میں تربیت کے دوران ترقی، نظم و ضبط، اور دوستی کا سفر گزرا۔ مشترکہ چیلنجز اور کامیابیوں نے دائمی دوستی کے رشتے کو جنم دیا۔"

اکیڈمی اسپورٹس سارجنٹ شاہ فیاض نے کہا کہ "یہ سفر عزم، غیرت اور ایمان کا سفر تھا۔"سارجنٹ عاصم منظور نے کہا کہ "یہ وردی صرف لباس نہیں بلکہ ذمہ داری، عزت اور شہداء کی امانت ہے۔"

کمپنی سارجنٹ میجر محمد ابراہیم نے کہا کہ "پاک فوج میں شمولیت اختیار کرنے کا مقصد قوم کا دفاع اور ملک کی خدمت ہے۔ میرے علاقے بلوچستان کے لوگ کسی بھی میدان میں کسی سے کم نہیں۔"

جینٹل مین کیڈٹ احمد نے کہا کہ "میرے والد اور بڑے بھائی وطن کی بقا کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، میں بھی انہی روایات کے مطابق ملک کی حفاظت کے لیے جان دینے سے دریغ نہیں کروں گا۔"

کمپنی جونیئر انڈر آفیسر احمد نعمان نے کہا کہ "بچپن سے اپنے والد صاحب کو اس وردی میں دیکھ کر پاک فوج میں شمولیت کا جذبہ پیدا ہوا۔پریڈ کے اختتام پر پرچم کشائی اور قومی ترانہ گایا گیا۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پی ایم اے نے انڈر آفیسر نے کہا کہ کے ساتھ کی خدمت کے لیے قوم کی

پڑھیں:

’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘

طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔

سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
 

متعلقہ مضامین

  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم