آج کل زیادہ تر لوگ نقد رقم رکھنے کے بجائے اے ٹی ایم کارڈ استعمال کرتے ہیں، کیونکہ نہ صرف یہ سہولت بخش ہے بلکہ اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتی جیسے واقعات کے پیش نظر محفوظ بھی۔ اے ٹی ایم کے ذریعے کسی بھی وقت، کہیں سے بھی بینک اکاؤنٹ سے پیسے نکالے جا سکتے ہیں۔
لیکن بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اے ٹی ایم سے رقم نکالتے ہوئے اچانک کوئی تکنیکی خرابی یا نیٹ ورک کا مسئلہ آ جاتا ہے۔ کارڈ ڈالنے اور رقم منتخب کرنے کے باوجود پیسے باہر نہیں آتے — اور سب سے بڑی پریشانی یہ ہوتی ہے کہ اکاؤنٹ سے رقم کٹ چکی ہوتی ہے۔
ایسے میں گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں، بلکہ درج ذیل آسان اقدامات کریں تاکہ آپ کا پیسہ محفوظ رہے۔کچھ دیر انتظار کریں، اگر رقم مشین سے باہر نہیں آئی لیکن اکاؤنٹ سے کٹ چکی ہے، تو پہلے 10 سے 15 منٹ وہیں انتظار کریں۔ اکثر اوقات سرور یا نیٹ ورک ٹھیک ہونے پر رقم نکل آتی ہے یا سسٹم خود ٹرانزیکشن کو ریورس کر دیتا ہے،ٹرانزیکشن سلپ سنبھال کر رکھیں، اگر پیسے نہیں نکلے لیکن سلپ یا اسکرین پر’’ Ammout Debited‘‘یعنی رقم کاٹ لی گئی ظاہر ہو رہی ہے، تو فوری طور پر ٹرانزیکشن سلپ کو محفوظ رکھیں۔ یہ بعد میں شکایت درج کروانے میں اہم ثبوت کا کام دے گی،24 گھنٹے انتظار کریں۔زیادہ تر کیسز میں بینک کا خودکار سسٹم 24 گھنٹے کے اندر رقم واپس اکاؤنٹ میں منتقل کر دیتا ہے۔ اس دوران آپ کو کسی اضافی کارروائی کی ضرورت نہیں ہوتی۔اگر رقم واپس نہ آئے تو بینک سے رابطہ کریں۔ اگر 24 گھنٹے بعد بھی رقم واپس نہ آئے تو فوری طور پر بینک کی کسٹمر سروس ہیلپ لائن پر کال کریں یا قریبی برانچ جا کر تحریری شکایت درج کرائیں۔ اپنی ٹرانزیکشن سلپ ساتھ لے جانا نہ بھولیں۔بینک عام طور پر ایک ہفتے میں مسئلہ حل کر دیتا ہےآپ کی شکایت درج ہونے کے بعد، بینک معاملے کی جانچ کرتا ہے اور عموماً 5 سے 7 دن کے اندر رقم آپ کے اکاؤنٹ میں واپس کر دی جاتی ہے۔آخری بات یہ کہ اے ٹی ایم کے مسائل تکنیکی نوعیت کے ہوتے ہیں، لیکن نظام عام طور پر شفاف ہوتا ہے۔ اس لیے اگر کبھی ایسی صورتحال کا سامنا ہو تو اعتماد کے ساتھ، مذکورہ اقدامات پر عمل کریں — آپ کی رقم محفوظ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اے ٹی ایم اکاو نٹ

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف