آمدنی بڑھانے کیلیے پنجاب ریونیو اتھارٹی میں اسپیشل یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
لاہور:
ریونیو بڑھانے کے لیے حکومت پنجاب نے موثر اقدامات کرتے ہوئے پنجاب ریونیو اتھارٹی میں اسپیشل یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
پی آر اے اسپیشل یونٹ میں فیکٹوریل، ٹیکس کنسلٹنٹ، لیگل ایکسپرٹ اور ڈیٹا اینا لیس شامل ہوں گے۔
پنجاب ریونیو اتھارٹی میں 130 انفورسمنٹ آفیسرز کی بھرتی کی اصولی منظوری بھی دے دی گئی۔ پنجاب ریونیو اتھارٹی کا دائرہ کار 30 اضلاع تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اضلاع تک ریونیو اتھارٹی کی توسیع کے لیے 30اکتوبر تک کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی۔ اضلاع میں ریونیو اتھارٹی سے متعلق اضافی ذمہ داریاں اے ڈی سی جی کو تفویض کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پنجاب میں ریونیو بڑھانے کے لیے 19 نئے سیکٹرز شامل کرنے کا جائزہ لہا گیا۔ ٹیکس دہندگان کے لیے پی آر اے نے سہولت اَیپ متعارف کروا دی ہے۔
مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ یمانداری سے ٹیکس ادا کرنے والوں کو پریشان نہ کیا جائے، نئے سیکٹر متعارف کرائے جائیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ٹیکس ریونیو میں شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت ریونیو کلیکشن سے متعلق خصوصی اجلاس ہوا۔ ڈی جی پی آر اے معظم علی سپرا نے ٹیکس اہداف اور نئے سیکٹرز کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پنجاب ریونیو اتھارٹی کے لیے
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔