ٹنڈو جام: راہوکی میں چوری وڈکیتی کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت)راہوکی تھانے ٹنڈوجام کی حدود میں چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں روز کا معمول بن چکی ہیں عوام پریشان جب ڈاکووں کا اور چوروں کا دل کرتا ہے واردات کرکے سکون اور اطمینان کے ساتھ فرار ہوجاتے ہیں تفصیلات کے مطابق مین روڈ چینل موری سے لے کر ٹول پلازہ، جکرا پھاٹک سے نیو حیدرآباد سٹی چوک تک کے علاقے میں چوروں اور ڈاکوؤں نے اپنے اڈے قائم کر لیے ان علاقوں سے گزرنا لوگوں کے لیے ایک آزمائش اور جان پر کھیل کر جانا بن چکا ہے ناریجانی شہر کے رہائشی غلام فرید راجپوت کے بیٹے سے جکرا پھاٹک کے قریب نیا موٹرسائیکل (نیو 125 ماڈل 2025) چھین لیا گیااور ڈاکو باآسانی واردات کرکے فرار ہوگئییاد رہے کہ گذشتہ ایک ماہ سیراہوکی تھانہ جرائم پیشہ عناصر کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے جہاں سے دن دہاڑے چینل موری ٹول پلازہ ٹنڈوجام اور نیو سٹی چوک کے درمیان درجنوں وارداتیں ہو چکی ہیں تاہم تاحال راھوکی پولیس نے کسی کو بھی ملزم کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہیعلاقہ مکینوں نے ڈی آئی جی حیدرآباد اور ایس ایس پی حیدرآباد سے فوری نوٹس لینیڈاکوؤں کے خلاف کارروائی کرنے اور شہریوں کو جان و مال کا تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔