سیستان بلوچستان کی معروف بلوچ شخصیت ملا کمال دہشت گردوں کے حملے میں جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
واقعہ آج صبح پیش آیا، جب ایرانشہر کی ایک سڑک پر ملا کمال کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ملا کمال موقع پر ہی جاں بحق ہو گئےاور ان کا بیٹا زخمی ہو گیا، جنہیں ہسپتال لے جایا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صوبہ صوبہ سیستان و بلوچستان کی معروف بلوچ شخصیت ملا کمال صلاحی زھی پر آج صبح دہشت گردوں نے حملہ کیا، جس میں وی جاں بحق ہو گئے۔ یہ واقعہ آج صبح پیش آیا، جب ایرانشہر کی ایک سڑک پر ملا کمال کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ملا کمال موقع پر ہی جاں بحق ہو گئےاور ان کا بیٹا زخمی ہو گیا، جنہیں ہسپتال لے جایا گیا۔ واضح رہے کہ ملا کمال علاقے کی ایک بااعتماد شخصیت اور اپنے وطن اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اسرائیلی ایجنٹوں کے ناقد تھے۔
انہوں نے ہمیشہ صیہونیت اور عالمی استکبار سے وابستہ کرائے کے قاتلوں کے خلاف واضح اور مضبوط موقف اختیار کیا۔ یاد رہے کہ حالیہ برسوں میں انہوں نے علاقے میں دہشت گردی کیخلاف بیداری،امن کے قیام ، بلوچ قبائل اور عوام کے درمیان تنازعات کے حل میں موثر کردار ادا کیا ہے، علاقے میں یکجہتی اور امن قائم کرنے کی ان کی کوششوں کیوجہ سے انہیں دشمن میڈیا اور موساد سےوابستہ دہشت گرد گروپوں نے مسلسل تنقید اور دھمکیوں کا نشانہ بنا رکھا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 12 روزہ اسرائیلی جارحیت میں صیہونی حکومت کی ناکامی کے بعد ایجنٹوں کے ذریعے ایران میں مداخلت تیز کی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ملا کمال
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک