ریاض سیزن کے بڑے ایونٹس میں شامل ’جوائے فورم 2025‘ کے دوسرے روز اہم سیشنز کا انعقاد ہوا جن میں عالمی تفریحی صنعت، اختراع اور کاروبار کے نئے رجحانات پر گفتگو کی گئی۔

پہلا پینل اسٹیج آرکیٹیکٹس: نیشنز × فیسٹیولز × ایوارڈز × میڈیا کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی (GEA) کے چیف ایگزیکٹو انجینئر فیصل بفارت اور کانز فلم فیسٹیول کی صدر آئرس نوبلوخ نے شرکت کی۔ گفتگو کی میزبانی معروف امریکی میڈیا شخصیت رائن سیکرسٹ نے کی۔

فیصل بفارت نے کہا کہ سعودی وژن 2030 نے مملکت میں عالمی معیار کی تفریحی صنعت کی بنیاد رکھی ہے۔ ان کے مطابق تفریح ایک ایسی زبان بن چکی ہے جو دنیا بھر کے لوگوں کو جوڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کووِڈ 19 وبا نے عالمی تفریحی معیار اور توقعات کو یکجا کر دیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے ناظرین کو مزید قریب کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے جوائے فورم 2025 ریاض: تفریح، ٹیکنالوجی اور تخلیق کا عالمی سنگم

ان کا کہنا تھا کہ اسی دوران GEA نے انفراسٹرکچر کی ترقی اور سالانہ ایونٹس کیلنڈر کی تیاری پر توجہ دی، جس کے نتیجے میں سعودی عرب اب تفریح کے ایک نئے عالمی دور میں داخل ہو چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ریاض سیزن کے تقریباً 70 فیصد ایونٹس پیشگی منصوبہ بندی کے تحت ہوتے ہیں، جبکہ 30 فیصد عالمی پارٹنرشپ اور نئے آئیڈیاز کے مطابق دورانِ سیزن شامل کیے جاتے ہیں۔ آئندہ سیزنز کے 80 فیصد سے زیادہ ایونٹس بالکل نئے ہوں گے۔

آئرس نوبلوخ نے کہا کہ تفریح اور سنیما کسی سرحد کے پابند نہیں، اور کانز فلم فیسٹیول عالمی سطح پر ٹیلنٹ، فلموں اور فلم سازوں کی شناخت کا مرکز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فیسٹیول کی بنیاد 2 ستونوں پر ہے۔ فلم مارکیٹ دنیا کی سب سے بڑی فلمی منڈی، اور ڈسکوری فیز جہاں فلموں کو عالمی ناظرین کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔

انہوں نے 2024 کی پالْم ڈی اور جیتنے والی فلم انورا کی مثال دی جو بعد میں 80 سے زائد بین الاقوامی ایوارڈز جیت کر آسکر اور گولڈن گلوب تک پہنچی۔ ان کے مطابق یہ کامیابی کانز فیسٹیول کی اصل طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔

نوبلوخ نے کہا کہ کانز فیسٹیول فلموں کی تقسیم یا مارکیٹنگ پر اثر انداز نہیں ہوتا بلکہ اس کا اصل اثر ثقافتی اور میڈیا سطح پر ہوتا ہے جو کسی فلم کو عالمی سنسنی میں بدل دیتا ہے۔

سیشن کے اختتام پر مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جذبات عالمی تفریح کی بنیادی زبان ہیں، ریاض سیزن اور کانز جیسے پلیٹ فارمز مشرق اور مغرب کو فن، تخلیق اور جدت کے ذریعے جوڑنے والے پل ہیں۔

اختراع اور کاروبار پر دوسرا سیشن: ’دی فاؤنڈر آپریٹرز‘

اگلا سیشن دی فاؤنڈر آپریٹرز: انٹرپرینیورشپ اِن دی انٹرٹینمنٹ اکانومی کے عنوان سے منعقد ہوا جس کی میزبانی معروف برطانوی نشریاتی شخصیت پیئرس مورگن نے کی۔ اس نشست میں دنیا کے 2 مشہور کاروباری رہنما گیری وینرچک اور ڈیمَنڈ جان نے اپنی زندگی اور تجربات سے کامیابی کے راز شیئر کیے۔

پیئرس مورگن نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں شخصیات گزشتہ 3 دہائیوں کے سب سے بااثر کاروباری دماغوں میں شمار ہوتی ہیں، اور ان کی موجودگی سعودی نوجوانوں کے لیے قیمتی سبق ہے۔

گیری وینرچک نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ کامیابی شارٹ کٹ یا سوشل میڈیا کی وقتی شہرت سے نہیں بلکہ محنت، تجربے اور مستقل مزاجی سے آتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہر بڑی کامیابی وقت لیتی ہے، کاروبار صبر اور عزم سے بنتے ہیں، قسمت سے نہیں۔

انہوں نے اپنے ’میکرو اینڈ مائیکرو‘ اصول کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کامیاب انٹرپرینیور وہ ہے جو طویل المدتی وژن کے ساتھ روزمرہ کے کاموں پر مکمل گرفت رکھتا ہو۔
’ان کے مطابق اپنے ہاتھ گندے کیے بغیر کامیابی ممکن نہیں، اور ہر پلیٹ فارم پر اپنی کہانی مختلف انداز میں سنانا آج کی کامیابی کا راز ہے۔‘

ڈیمَنڈ جان نے اپنا برانڈ FUBU قائم  کرنے کی کہانی سناتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے سب سے بڑی طاقت ان کی اپنے وجدان پر بھروسہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ وجدان کو کسی جواز کی ضرورت نہیں ہوتی، یہ وہ آواز ہے جو صحیح سمت دکھاتی ہے۔ آپ کئی بار ناکام ہو سکتے ہیں، مگر صرف ایک کامیابی آپ کی زندگی بدل سکتی ہے۔

انہوں نے سعودی نوجوانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان میں غیر معمولی صلاحیت، تیزی سے سیکھنے کی قوت اور بلند عزائم ہیں۔ ان کے مطابق سعودی عرب وژن 2030 کے اہداف 2028 تک حاصل کر لے گا۔

وینرچک نے اپنے والد کے کاروبار میں کام کرنے کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ  ’میری سب سے بڑی سرمایہ کاری وہ تھی جب میں نے اپنے والد کے کاروبار کو بنانے کے لیے 100 گھنٹے ہفتہ وار کام کیا۔‘

اختتامی حصے میں دونوں رہنماؤں نے نوجوان کاروباریوں کو عملی مشورے دیے۔

ڈیمَنڈ جان نے کہا کہ مارکیٹ ریسرچ، ناظرین کی درست پہچان اور پراڈکٹ کی مرحلہ وار جانچ کامیابی کے بنیادی اصول ہیں۔
گیری وینرچک نے کاروبار کو باکسنگ چیمپئن فلائیڈ میویدر کے انداز سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ’کامیاب کاروبار وہ ہے جو حالات کے مطابق خود کو ڈھال لے، نہ کہ اندھا دھند حملہ کرے۔‘

پیئرس مورگن نے گفتگو کا اختتام مائیک ٹائسن کے مشہور قول سے کیا ’ہر کسی کے پاس ایک پلان ہوتا ہے… جب تک کہ اسے پہلا مکا نہ پڑے۔‘

انہوں نے کہا کہ اصل لیڈر وہ ہوتا ہے جو مکے کے بعد دوبارہ کھڑا ہو کر آگے بڑھتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جوائے فورم 2025 ریاض سعودی عرب.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جوائے فورم 2025 ریاض کرتے ہوئے کہا کہ جوائے فورم 2025 ڈیم نڈ جان نے ان کے مطابق نے کہا کہ بتایا کہ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم