پاک فوج کے دباؤ کی وجہ سے پاک افغان مذاکرات ممکن ہوئے، پختونخوا کے عوام کی رائے
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
ملک کے دیگر صوبوں کی طرح پاک افغان مذاکرات پر خیبر پختونخوا کی عوام نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ افغانستان پر حکمرانی کرنے والوں کو بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے، افغانستان میں جو حکومت بیٹھی ہے، اس کی پشت پناہی بھارت کر رہا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ پاک فوج کو سلام پیش کرتے ہیں کیونکہ یہ مذاکرات پاک فوج کے دباؤ کی وجہ سے ممکن ہوئے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بحیثیتِ پشتون ہمیں افغان طالبان پر کوئی اعتماد نہیں ہے، افغان طالبان پر پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا یہ ہر وقت یو ٹرن لینے کے موڈ میں رہتے ہیں۔
پختونخوا کے عوام کا کہنا تھا کہ ہماری فوج مضبوط اور بہادر ہے ہمیں اپنی فوج پر مکمل اعتماد ہے اور ہم ہر میدان میں اپنی فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کا کہنا
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔