data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اوکاڑہ:۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ سب سے بڑے سیلاب سے نمٹنے کے لیے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے، حکومت نے پنجاب کے عوام کی عزت نفس کا خیال رکھا، میری موجودگی میں پنجاب کے عوام کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔

اوکاڑہ میں سیلاب متاثرین میں فلڈ کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کا آج سے باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے، پنجاب نے تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا کیا، سیلاب سے کچے گھروں، جانوروں اور فصلوں کا بھاری نقصان ہوا۔انہوں نے کہا کہ آج سیلاب متاثرین میں پہلے چیکس کی تقسیم کا عمل شروع ہوا ہے، وعدہ کیا تھا جب تک آخری متاثرہ شخص کے نقصان کا ازالہ نہیں ہوگا آرام سے نہیں بیٹھوں گی۔

 پنجاب میں تین ہفتے سیلابی کیفیت رہی، سیلاب میں آپ کی وزیراعلیٰ، کابینہ اور انتظامیہ کے افرادآرام سے نہیں بیٹھے، پنجاب حکومت نے اپنے عوام کی تاریخی خدمت کی۔ انہوں نے کہا کہ جتنا بڑا سیلاب آیا اتنی ہی تاریخی خدمت کی گئی، سب نے یک جان ہو کر ایک ٹیم بن کر سیلاب میں کام کیا، سیلابی سروے کیلئے 10 ہزار افراد پر مشتمل ٹیمیں بنائیں، لاہور میں 10 ہزار لوگوں سے حلف لیا۔ان کا کہنا تھا کہ اب تک 70 فیصد سروے مکمل ہو چکا ہے، آج چیک تقسیم کا آغاز 15 اضلاع، 15 ڈسٹرکٹس اور 15 شہروں سے ہو رہا ہے، ہم نے سیلاب متاثرین کے نقصانات کا ازالہ کرنا شروع کر دیا ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے ریسکیو آپریشن اپنے پیسے سے کیا، ہم نے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو کھانا اور ٹینٹ اپنے وسائل سے فراہم کئے، میرے پاس تمام وسائل پنجاب کے عوام کی امانت ہیں، ہم نے سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے 100ارب روپے رکھے ہیں، سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے، حکومت نے پنجاب کے عوام کی عزت نفس کا خیال رکھا، میری موجودگی میں پنجاب کے عوام کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ میں نے کرپشن کے تمام راستے بند کر دیئے ہیں، 100 ارب روپے سیلاب متاثرین کے علاوہ کسی کو نہیں ملیں گے، سیلاب متاثرین کی شکایات کیلئے ایک پورا سسٹم بنا دیا ہے۔ پنجاب کے کسی بھی شہر میں کوئی تفریق نہیں ہوگی، اللہ پنجاب کو اس سے بھی زیادہ وسائل دے جن کو آپ کے قدموں میں رکھ سکوں، آج لوگ پنجاب کی ترقی اوریہاں ہونے والے کاموں کی مثال دیتے ہیں۔

مریم نواز نے مزید کہا کہ آئندہ چند دنوں کے بعد لگے گا ہی نہیں کہ پنجاب میں سیلاب آیا ہے، ہوتا یہ ہے کہ سیلاب یا کسی قدرتی آفت کے بعدحکومتیں کئی کئی سال پیسے مانگتی اور روتی رہتی ہیں، سیلاب کے بعد ہم نے رونا دھونا نہیں کیا اورنہ ہی کسی کے سامنے ہاتھ پھیلایا، ہم آج آپ کو آپ کا حق دے رہے ہیں۔قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے دیپالپور میں سیلاب بحالی پروگرام کے تحت متاثرین میں چیک تقسیم کئے، سیلاب متاثرین کیلئے قائم کانٹر بوتھ کا بھی معائنہ کیا اور سیلاب متاثرین سے مسائل دریافت کئے۔

ویب ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سیلاب متاثرین کی پنجاب کے عوام کی کا کہنا تھا کہ مریم نواز حکومت نے سے نہیں

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا