طلال چوہدری نے کے پی حکومت کی جانب سے بلٹ پروف گاڑیاں واپس کرنے کا فیصلہ بچگانہ قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے خیبرپختونخوا حکومت کے بلٹ پروف گاڑیاں واپس کرنے کے فیصلے کو غیر سنجیدہ اور بچگانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نابالغ سوچ نے پولیس افسران اور جوانوں کی جانوں کو غیر ضروری خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
اپنے ایک ویڈیو پیغام میں سینیٹر طلال چوہدری نے کہاکہ وفاقی حکومت اور وزارت داخلہ خیبرپختونخوا حکومت کو دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام تر وسائل فراہم کر رہی ہے، اور یہ صرف دعویٰ نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے ثابت بھی کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ایسے وزیراعلیٰ جو اس نوعیت کے فیصلے کریں، ان سے نہ صرف پولیس افسران اور اہلکار بلکہ عوام کو بھی سوال کرنا چاہیے کہ جب دہشتگرد جدید اسلحے سے لیس ہیں تو پولیس کے لیے بلٹ پروف گاڑیاں نہ لینا غفلت اور نااہلی کی علامت نہیں تو اور کیا ہے۔
سینیٹر طلال چوہدری کے مطابق یہ فیصلہ محض بچگانہ نہیں بلکہ انتہائی غیر دانشمندانہ اور افسوسناک ہے، جس کے باعث پولیس افسران اور جوانوں کے لیے خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ بہرحال جاری رہے گی، اور وفاق خیبرپختونخوا پولیس سمیت تمام اداروں کو ہر ممکن سہولت اور مدد فراہم کرے گا تاکہ دہشتگردوں کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔
وزیرِ مملکت نے مزید دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت اب تک خیبرپختونخوا کو 600 ارب روپے سے زیادہ رقم دے چکی ہے، لیکن صوبائی حکومت اس رقم کا حساب پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔
ان کے بقول، خیبرپختونخوا پولیس کو عالمی معیار کی بلٹ پروف گاڑیاں دہشتگردی کے خلاف آپریشنز میں استعمال کے لیے فراہم کی گئی تھیں، جن کا مقصد پولیس اہلکاروں کا تحفظ یقینی بنانا تھا۔
طلال چوہدری نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کی جانب سے دی گئی بلٹ پروف گاڑیاں واپس کرنے کا فیصلہ کر کے پولیس اہلکاروں کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی جانب سے صوبائی پولیس کو فراہم کی گئی بلٹ پروف گاڑیاں واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔
ان کا مؤقف تھا کہ وفاق کی جانب سے دی گئی یہ گاڑیاں ناقص اور پرانی ہیں، جو خیبرپختونخوا پولیس کی توہین کے مترادف ہے، اس لیے انہیں فوراً وفاق کو واپس کر دیا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلٹ پروف گاڑیوں کی واپسی سہیل آفریدی طلال چوہدری فیصلہ بچگانہ وزیر مملکت داخلہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی طلال چوہدری وزیر مملکت داخلہ وزیراعلی خیبرپختونخوا وی نیوز طلال چوہدری نے کی جانب سے کے لیے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔