Jasarat News:
2026-06-03@05:58:24 GMT

ناک اونچی ہونی چاہیے یا ایمان

اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251021-03-5

 

میاں منیر احمد

بھارت، اسرائیل اور امریکا اور ان جیسے دیگر ملک کیوں ہر روز انصاف پسند معاشروں کی تنقید کا نشانہ بنے رہتے ہیں، اس لیے یہ وعدے نہ نبھانے، عہد کی پاس داری نہ کرنے اور طاقت کے زعم میں اپنی ناک اونچی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، دھونس جماتے ہیں۔ انسانوں کی زندگی میں اور اقوام کی زندگیوں میں، عالمی معاشروں میں جہاں تہذیب، تمدن کی بنیادوں پر زندگی چل رہی ہو وہاں ان وعدوں کی پاس داری، عہد نبھانے کی بڑی اہمیت ہے اور یہی انسانوں کی اور تہذیب یافتہ معاشروں کی پہچان ہے۔ یہی صفت ہر انسان کو دوسرے انسانوں سے الگ اور ممتاز بناتی ہے۔ اہل ایمان کے پاس کیا ہے ایک عہد کی پاس داری کی صفت ہی ہے اور ہے کیا؟ صلح حدیبیہ کیا ہے؟ اہل مدینہ اور اہل مکہ کے مابین ایک معاہدہ طے ہوا، معاہدہ کی ایک شق یہ تھی کہ اگر مدینہ سے کوئی مکہ آنا چاہے تو اہل مدینہ کی جانب سے اسے نہیں روکا جائے گا اور اگر مکہ سے کوئی مدینہ جانا چاہے تو اہل مکہ اسے روک سکتے ہیں‘ بظاہر تو غیر متوازن معاہدہ معلوم ہوتا ہے مگر انسانیت کے قائد، رہبر، راہنماء اور اعلیٰ ترین ہستی، ایسی ہستی کہ تا قیامت ایسی ہستی

دوبارہ نہیں آسکتی‘ نبی آخرالزمانؐ معاہدے کے لیے زبان دے چکے ہیں اور معاہدہ ابھی تحریر ہونا کہ اچانک مکہ سے ابو جندل آگئے‘ اس وقت کے ماحول کا نقشہ کیا ہے؟ اہل مکہ کے بدترین تشدد سے نہایت لاغر، زخموں سے چور چور ابو جندلؓ‘ ان پر تشدد اس لیے کہ وہ ایمان لاچکے ہیں، اسلام قبول کرچکے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ انہیں اپنے ساتھ مدینہ لے جائیں۔ اتنی رقت آمیز درخواست کہ ہر مسلمان اندر سے ٹوٹ گیا‘ مگر فیصلہ کیا ہوا؟ فیصلہ یہی ہوا کہ ابو جندل واپس چلے جائو کہ ہم معاہدہ کرچکے ہیں، زبان دے چکے ہیں۔ اس وقت پوری مسلم برادری، اہل مدینہ کا کیا حال ہوگا؟ کوئی تصور کر سکتا ہے؟ نہیں کر سکتا جناب!

لیکن زبان دی جاچکی تھی اور اس کی پاس داری کرنی تھی کہ اسی صفت کو اہل اسلام اور اہل کفر میں فرق کرنا تھا۔ اسلام میں زبان کی بڑی اہمیت ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اسلام آباد میں زبان کی کوئی اہمیت نہ ہو مگر ہم تو مسلمان ہیں، صلح حدیبیہ کی لاج رکھنے کے پابند اور وارث ہیں، کیا ہمیں یہ بات معلوم نہیں کہ بھارت نے وعدہ کیا تھا کہ اہل اکشمیر کو رائے شماری کا حق دے گا، آج سات دہائیوں سے ہم پاکستان کے ہر شہر، چوک چوراہوں میں سیاسی جماعتوں، دینی جماعتوں، کاروباری تنظیموں، تاجر فورمز غرض پارلیمنٹ سے لے عام چوراہوں تک بھارت کو لعن طعن کرتے ہیں کہ اس نے وعدہ نہیں نبھایا، جو زبان دی تھی اس کی پاس داری نہیں کی لیکن ہم خود بھی دیکھیں کہ کیا ہم میں سے کوئی ایسا تو نہیں ہے جو بھارت، امریکا اور اسرائیل کی مانند دھونس جمارہا ہو اور اپنے وعدے کی پاس داری نہ کررہا ہو؟ آئیے تھوڑا ساوقت نکالیے اور اپنے آس پاس دیکھیں کہ کون ہے؟ اگر کوئی بھی ایسا نہیں ہے تو پھر ہم بطور قوم کامیاب ہیں اگر کوئی ایسا مل جائے جو وعدے کی پاسداری نہیں کرتا، زبان دے کر مکر جائے کہ اپنی ناک اونچی رکھنی ہے تو پھر ہمیں ضرور سوچنا ہے اپنے بارے میں اور اس کے بارے میں، ہم کہاں کھڑے ہیں؟

ایسے شخص کو کشمیریوں کے لیے آواز اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں ایک بار ضرور جھانک لینا چاہیے آج کی تحریر اگر آج ہمارے معاشرے کی تصویر بھی ہے تو پھر ہمیں ضرور اپنا محاسبہ کرنا ہوگا ابھی آج کی بات کرلیتے ہیں، پاک افغان سرحد پر کشیدگی ہے، طالبان عبوری حکومت وعدوں کے باوجود بندوق برداروں کو نہیں روک رہی، کئی بار اس کے کہا کہ ہم اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، کیا انہوں نے پاس داری کی؟ جو زبان دی تھی پاکستان کو پھر تنائج کیا ہیں؟ کچھ نتائج تو سامنے آچکے ہیں اور باقی نتائج کے لیے انتظار کیجیے، یہ سبق ہے ہمارے لیے اور ان تمام لوگوں کے لیے جنہوں نے جرگوں میں حلف اٹھائے ہیں۔ ان کے حلف کہاں ہیں؟ اگر وہ اپنے حلف کی پاس داری کر رہے ہیں تو نہایت قابل عزت لوگ ہیں، ان کی تکریم کی جانی چاہیے لیکن اگر وہ زبان کی پاس داری نہیں کر رہے تو پھر ان کا علاج ضروری ہے جو ہورہا ہے جس کا علاج نہیں ہوا اس کا بھی ہونا چاہیے کہ عقل مندوں کے لیے اشارہ ہی کافی ہے۔

میاں منیر احمد.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کی پاس داری نہ ہے تو پھر کے لیے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا