ناک اونچی ہونی چاہیے یا ایمان
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251021-03-5
میاں منیر احمد
بھارت، اسرائیل اور امریکا اور ان جیسے دیگر ملک کیوں ہر روز انصاف پسند معاشروں کی تنقید کا نشانہ بنے رہتے ہیں، اس لیے یہ وعدے نہ نبھانے، عہد کی پاس داری نہ کرنے اور طاقت کے زعم میں اپنی ناک اونچی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، دھونس جماتے ہیں۔ انسانوں کی زندگی میں اور اقوام کی زندگیوں میں، عالمی معاشروں میں جہاں تہذیب، تمدن کی بنیادوں پر زندگی چل رہی ہو وہاں ان وعدوں کی پاس داری، عہد نبھانے کی بڑی اہمیت ہے اور یہی انسانوں کی اور تہذیب یافتہ معاشروں کی پہچان ہے۔ یہی صفت ہر انسان کو دوسرے انسانوں سے الگ اور ممتاز بناتی ہے۔ اہل ایمان کے پاس کیا ہے ایک عہد کی پاس داری کی صفت ہی ہے اور ہے کیا؟ صلح حدیبیہ کیا ہے؟ اہل مدینہ اور اہل مکہ کے مابین ایک معاہدہ طے ہوا، معاہدہ کی ایک شق یہ تھی کہ اگر مدینہ سے کوئی مکہ آنا چاہے تو اہل مدینہ کی جانب سے اسے نہیں روکا جائے گا اور اگر مکہ سے کوئی مدینہ جانا چاہے تو اہل مکہ اسے روک سکتے ہیں‘ بظاہر تو غیر متوازن معاہدہ معلوم ہوتا ہے مگر انسانیت کے قائد، رہبر، راہنماء اور اعلیٰ ترین ہستی، ایسی ہستی کہ تا قیامت ایسی ہستی
دوبارہ نہیں آسکتی‘ نبی آخرالزمانؐ معاہدے کے لیے زبان دے چکے ہیں اور معاہدہ ابھی تحریر ہونا کہ اچانک مکہ سے ابو جندل آگئے‘ اس وقت کے ماحول کا نقشہ کیا ہے؟ اہل مکہ کے بدترین تشدد سے نہایت لاغر، زخموں سے چور چور ابو جندلؓ‘ ان پر تشدد اس لیے کہ وہ ایمان لاچکے ہیں، اسلام قبول کرچکے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ انہیں اپنے ساتھ مدینہ لے جائیں۔ اتنی رقت آمیز درخواست کہ ہر مسلمان اندر سے ٹوٹ گیا‘ مگر فیصلہ کیا ہوا؟ فیصلہ یہی ہوا کہ ابو جندل واپس چلے جائو کہ ہم معاہدہ کرچکے ہیں، زبان دے چکے ہیں۔ اس وقت پوری مسلم برادری، اہل مدینہ کا کیا حال ہوگا؟ کوئی تصور کر سکتا ہے؟ نہیں کر سکتا جناب!
لیکن زبان دی جاچکی تھی اور اس کی پاس داری کرنی تھی کہ اسی صفت کو اہل اسلام اور اہل کفر میں فرق کرنا تھا۔ اسلام میں زبان کی بڑی اہمیت ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اسلام آباد میں زبان کی کوئی اہمیت نہ ہو مگر ہم تو مسلمان ہیں، صلح حدیبیہ کی لاج رکھنے کے پابند اور وارث ہیں، کیا ہمیں یہ بات معلوم نہیں کہ بھارت نے وعدہ کیا تھا کہ اہل اکشمیر کو رائے شماری کا حق دے گا، آج سات دہائیوں سے ہم پاکستان کے ہر شہر، چوک چوراہوں میں سیاسی جماعتوں، دینی جماعتوں، کاروباری تنظیموں، تاجر فورمز غرض پارلیمنٹ سے لے عام چوراہوں تک بھارت کو لعن طعن کرتے ہیں کہ اس نے وعدہ نہیں نبھایا، جو زبان دی تھی اس کی پاس داری نہیں کی لیکن ہم خود بھی دیکھیں کہ کیا ہم میں سے کوئی ایسا تو نہیں ہے جو بھارت، امریکا اور اسرائیل کی مانند دھونس جمارہا ہو اور اپنے وعدے کی پاس داری نہ کررہا ہو؟ آئیے تھوڑا ساوقت نکالیے اور اپنے آس پاس دیکھیں کہ کون ہے؟ اگر کوئی بھی ایسا نہیں ہے تو پھر ہم بطور قوم کامیاب ہیں اگر کوئی ایسا مل جائے جو وعدے کی پاسداری نہیں کرتا، زبان دے کر مکر جائے کہ اپنی ناک اونچی رکھنی ہے تو پھر ہمیں ضرور سوچنا ہے اپنے بارے میں اور اس کے بارے میں، ہم کہاں کھڑے ہیں؟
ایسے شخص کو کشمیریوں کے لیے آواز اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں ایک بار ضرور جھانک لینا چاہیے آج کی تحریر اگر آج ہمارے معاشرے کی تصویر بھی ہے تو پھر ہمیں ضرور اپنا محاسبہ کرنا ہوگا ابھی آج کی بات کرلیتے ہیں، پاک افغان سرحد پر کشیدگی ہے، طالبان عبوری حکومت وعدوں کے باوجود بندوق برداروں کو نہیں روک رہی، کئی بار اس کے کہا کہ ہم اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، کیا انہوں نے پاس داری کی؟ جو زبان دی تھی پاکستان کو پھر تنائج کیا ہیں؟ کچھ نتائج تو سامنے آچکے ہیں اور باقی نتائج کے لیے انتظار کیجیے، یہ سبق ہے ہمارے لیے اور ان تمام لوگوں کے لیے جنہوں نے جرگوں میں حلف اٹھائے ہیں۔ ان کے حلف کہاں ہیں؟ اگر وہ اپنے حلف کی پاس داری کر رہے ہیں تو نہایت قابل عزت لوگ ہیں، ان کی تکریم کی جانی چاہیے لیکن اگر وہ زبان کی پاس داری نہیں کر رہے تو پھر ان کا علاج ضروری ہے جو ہورہا ہے جس کا علاج نہیں ہوا اس کا بھی ہونا چاہیے کہ عقل مندوں کے لیے اشارہ ہی کافی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی پاس داری نہ ہے تو پھر کے لیے
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس