ٹوئٹر (ایکس) پر غیر فعال یوزر نیمز کی نیلامی کی تیاری مکمل
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹوئٹر (جو اب ایکس کے نام سے جانا جاتا ہے) نے ایک نیا منصوبہ شروع کیا ہے جس کے تحت غیر فعال یا پرانے یوزر نیمز کو فروخت کیا جائے گا، اور یہ کمپنی کے لیے نیا مالی ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔
ایکس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ایسے تمام یوزر نیمز، جو طویل عرصے سے استعمال میں نہیں ہیں، کو اپنی نئی Handles Marketplace کے ذریعے فروخت کرے گا۔
یہ مارکیٹ پلیس صرف پریمیئم اور پریمیئم بزنس صارفین کے لیے دستیاب ہوگی۔ کمپنی کے مطابق کچھ یوزر نیمز مفت فراہم کیے جائیں گے جن کے لیے “Priority” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، جبکہ دیگر یوزر نیمز فروخت کے لیے یا “Invite Only” بنیاد پر دستیاب ہوں گے جنہیں “Rare” کہا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق مفت یوزر نیمز زیادہ تر طویل اور عام نوعیت کے ہوں گے، جب کہ فروخت کیے جانے والے یوزر نیمز مختصر، منفرد اور زیادہ طلب والے ہوں گے۔ ان کی قیمتیں ڈھائی ہزار ڈالر سے شروع ہو کر لاکھوں ڈالرز تک پہنچ سکتی ہیں، اور ان کی قیمت کا تعین ان کے منفرد ہونے اور مقبولیت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ خریدے گئے یوزر نیمز کی ملکیت مکمل طور پر منتقل نہیں کی جائے گی تاکہ خریدار انہیں آگے فروخت نہ کر سکیں۔ البتہ، کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان یوزر نیمز کے سابقہ مالکان کو اس فروخت سے کوئی مالی فائدہ حاصل ہوگا یا نہیں۔
یہ قدم ایکس کے بزنس ماڈل میں ایک نئے تجربے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو بظاہر غیر فعال اکاؤنٹس کو آمدنی کے مؤثر ذریعے میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز