آئی فون 17 کی وہ 7 خصوصیات کیا ہیں جن سے اس نے آئی فون 16 کو مات دی؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
ایپل کی نئی آئی فون 17 سیریز اپنی لانچ کے ابتدائی دنوں میں حالیہ برسوں کی سب سے کامیاب ریلیز ثابت ہو رہی ہے۔
ریسرچ ادارے کاؤنٹر پوائنٹ کے مطابق، آئی فون 17 سیریز کی فروخت ابتدائی دس دنوں میں امریکا اور چین یعنی ایپل کی 2 سب سے بڑی منڈیوں میں آئی فون 16 سیریز سے 14 فیصد زیادہ رہی ہے۔
بنیادی ماڈل نے سب کو حیران کر دیارپورٹ کے مطابق، سب سے زیادہ فروخت ماڈل آئی فون 17 کی ہوئی ہے جس کی فروخت امریکا اور چین میں مجموعی طور پر 31 فیصد بڑھی، جبکہ چین میں یہ تقریباً دوگنی ہو گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ نمایاں اپ گریڈز کی وجہ سے ہے جن میں زیادہ روشن ڈسپلے، بڑی اسٹوریج، نیا A19 چپ اور بہتر سیلفی کیمرا شامل ہیں — وہ بھی سابقہ 799 ڈالر کی قیمت میں۔
پرو میکس ماڈل کی زبردست مانگآئی فون 17 پرو میکس کے لیے بھی مارکیٹ میں زبردست جوش و خروش دیکھا گیا، خاص طور پر امریکا میں، جہاں موبائل کمپنیوں نے صارفین کو راغب کرنے کے لیے 100 ڈالر تک کی اضافی سبسڈی دی۔
نیا ڈیزائن، بہتر کولنگ سسٹم اور ایپل کا اب تک کا سب سے جدید کیمرا اس ماڈل کی مقبولیت کا باعث بنے ہیں۔
عالمی فروخت میں نمایاں اضافہایپل نے 58.
یہ رجحان یو اے ای میں بھی دیکھا گیا جہاں دبئی مال اور یاس مال میں ایپل اسٹورز کے باہر صارفین کی قطاریں لگ گئیں، اور چند دنوں میں مخصوص رنگ اور ماڈلز کا اسٹاک ختم ہو گیا۔
قیمت برقرار، فیچرز میں اضافہایپل نے اس سال قیمتیں نہیں بڑھائیں، جس سے یو اے ای جیسے ممالک میں جہاں خریدار نقد ادائیگی کرتے ہیں، فروخت میں اضافہ ہوا۔
کمپنی نے اضافی فیچرز کے ساتھ وہی پرانی قیمت برقرار رکھتے ہوئے آئی فون 13 یا اس سے پرانے ماڈلز کے صارفین کے لیے اپ گریڈ کو مزید پرکشش بنا دیا۔
ایپل نے اپنے تمام ماڈلز میں لچکدار اسکرینز متعارف کر کے اسمارٹ فون انڈسٹری میں ایک نیا معیار قائم کر دیا ہے، جس سے رنگ، روشنی اور بیٹری کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔
پرو سیریز کی برتری برقرارایپل اپنی پرو اور پرو میکس سیریز کی بدولت دنیا کی سب سے بڑی اسمارٹ فون کمپنی بننے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ یو اے ای کے پریمیئم صارفین، جو ہر سال نیا فون خریدنے کے عادی ہیں، نے خاص طور پر ٹائٹینیم فریم اور بہتر کیمرا کارکردگی کی وجہ سے پرو میکس ماڈل کو ہاتھوں ہاتھ لیا ہے۔
ایپل پر اعتماد برقراراگرچہ چین میں ایپل انٹیلیجنس فیچرز کے اجرا میں تاخیر ہوئی ہے، تاہم کمپنی اب بھی اپنی آمدنی کا تقریباً نصف حصہ آئی فون سے حاصل کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایپل کی مستقل اپ گریڈ پالیسی اور صارفین کے اعتماد نے کمپنی کی فروخت کو غیر یقینی معاشی حالات میں بھی مضبوط رکھا ہوا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی فون ایپل موبائل فون
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئی فون ایپل موبائل فون آئی فون 17 پرو میکس کے لیے
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔