وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی ہنگو دھماکے میں شہید ایس پی اسد زبیر کے گھر گئے اور شہید کے اہلِ خانہ سے ملاقات اور تعزیت کا اظہار کیا۔ کوہاٹ میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے سابق وزیر داخلہ اور رکن قومی اسمبلی شہریار خان آفریدی کی رہائش گاہ کا دورہ کیا۔ وزیر اعلیٰ نے ہنگو بم دھماکے میں شہید ہونے والے شہریار آفریدی کے کزن اور ایس ایس پی آپریشن ہنگو، شہید اسد زبیر آفریدی کی شہادت پر فاتحہ خوانی کی اور لواحقین سے دلاسہ اور تعزیت کا اظہار کیا۔ وزیر اعلیٰ نے قوم کو باور کرایا کہ وہ اپنے بہادر سپاہیوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی اور اس واقعہ کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے آئی جی پولیس سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے اور امن و امان کی صورتحال پر اپیکس کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور ملوث عناصر کو ہر صورت سزا دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بزدلانہ حملے سی ٹی ڈی اور پولیس کے حوصلے پست نہیں کر سکتے، اور شہید ایس پی آپریشنز اور دو پولیس اہلکاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ امن کے قیام کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور شہید اہلکاروں کے ایصال ثواب کے لیے دعا کی جبکہ لواحقین کے لیے صبر جمیل کی درخواست بھی کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: وزیر اعلی ایس پی

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور میں 4 روز کے دوران کتنی ملی میٹر بارش ہوئی؟ پی ڈی ایم اے رپورٹ جاری
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن