بھارت کی ہٹ دھرمی امن کیلئے خطرہ، کشمیریوں کی حمایت جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت کی ہٹ دھرمی جنوبی ایشیا کے امن کے لیے خطرہ ہے، پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جموں و کشمیر پر بھارتی قبضہ کے 78 سال مکمل ہونے پر اپنے پیغام میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت نے 27 اکتوبر 1947 کو سری نگر پر غیر قانونی قبضہ کیا، 78 برس سے کشمیری عوام بھارتی جبر و ظلم کا سامنا کر رہے ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری ہی مسئلہ کشمیر کا حل ہے، بھارت نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی کی، پاکستان اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے تقدس اور عملدرآمد پر یقین رکھتا ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کا مسئلہ حل کئے بغیر جنوبی ایشیا میں امن ممکن نہیں: صدر و وزیراعظم
انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد بھارتی اقدامات نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال مزید بگاڑ دی، غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل جاری کر کے آبادی کے تناسب کو تبدیل کیا جا رہا ہے، کشمیری قیادت کی گرفتاری اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پہلگام حملے کے بعد ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا، کشمیری عوام نے ظلم کے باوجود حوصلہ اور استقامت کا مظاہرہ کیا، بھارت کی ہٹ دھرمی جنوبی ایشیا کے امن کے لیے خطرہ ہے، عالمی برادری کشمیریوں کی تکالیف کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا، پاکستان ہر بین الاقوامی فورم پر کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا۔
جموں و کشمیر پر بھارت کے غیرقانونی قبضے کو 78 برس مکمل، دنیا بھر میں آج یوم سیاہ
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔