الیکس کیری کا کیچ پکڑنا مہنگا پڑ گیا، شریاس ائیر آئی سی یو منتقل
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
بھارتی ون ڈے ٹیم کے نائب کپتان شریاس ائیر کو آسٹریلیا کے خلاف تیسرے میچ کے دوران پسلی میں شدید چوٹ لگنے کے بعد اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس وقت وہ آئی سی یو میں زیر علاج ہیں۔
میچ کے دوران شریاس ائیر نے الیکس کیری کا شاندار کیچ پکڑتے ہوئے بائیں پسلی زخمی کر لی تھی، جس کے نتیجے میں اندرونی خون بہنے لگا اور انہیں فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا۔
ذرائع کے مطابق شریاس ائیر کی حالت اب خطرے سے باہر ہے، تاہم مکمل صحت یابی میں تقریباً ایک ہفتہ یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ چوٹ جان لیوا بھی ہو سکتی تھی اور انہیں انفیکشن سے بچانے کے لیے چند دنوں تک نگرانی میں رکھا جائے گا۔
31 سالہ شریاس ائیر کی بھارت واپسی کا فیصلہ ان کی صحت میں بہتری آنے کے بعد کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شریاس ائیر
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔