شاہ محمود قریشی اسپتال سے کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
پی ٹی آئی کے شاہ محمود کو پتھری کی سرجری کے بعد دوبارہ کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا ہے۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے سینئر رہنما اور سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کو اسپتال سے ڈسچارج کرنے کے بعد لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا ہے، ان کے وکیل رانا مدثر عمر نے بدھ کو بتایا۔
یہ بھی پڑھیں: شاہ محمود قریشی کی کامیاب سرجری، ڈاکٹروں کی خصوصی نگرانی جاری ہے، تحریک انصاف
شاہ محمود قریشی پچھلے ماہ پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ میں پتھری کے مسائل کے باعث اسپتال میں داخل تھے، جہاں ان کی پتھری نکالنے کا کامیاب آپریشن کیا گیا۔
رانا مدثر عمر کے مطابق، قریشی کی حالت بہتر ہونے پر انہیں اسپتال سے ڈسچارج کیا گیا اور دورانِ علاج کیے گئے ٹیسٹوں کی رپورٹس 15 دن میں جاری کی جائیں گی۔
پی ٹی آئی رہنما پر 9 مئی 2023 کے فسادات سے متعلق متعدد مقدمات میں فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے اور وہ اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شاہ محمود قریشی اسپتال منتقل،کن سابق ساتھیوں نے ملاقات کی، معاملہ کیا ہے؟
جولائی 2024 میں لاہور کی اینٹی ٹیررزم کورٹ نے شاہ محمود قریشی کو شادمان پولیس کی رپورٹ پر مقدمے میں فردِ جرم عائد کی، جس میں پولیس اسٹیشن پر حملہ اور آگ لگانے کا الزام تھا۔
اسی ماہ، ان کو اڈیالہ جیل راولپنڈی سے پولیس کی درخواست پر کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا کہ قریشی کو بار بار راولپنڈی سے لاہور منتقل کرنا حکام اور سابق وزیر کے لیے ممکن نہیں تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آپریشن اسپتال پتھری پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی کوٹ لکھپت جیل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپتال پتھری پی ٹی ا ئی شاہ محمود قریشی کوٹ لکھپت جیل کوٹ لکھپت جیل منتقل شاہ محمود قریشی قریشی کو
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔