Daily Mumtaz:
2026-06-03@03:47:49 GMT

شاہ رخ خان ’بورنگ ایکٹر‘ ہیں، نصیر الدین شاہ

اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT

شاہ رخ خان ’بورنگ ایکٹر‘ ہیں، نصیر الدین شاہ

لیجنڈری بھارتی اداکار نصیر الدین شاہ کی پرانی ویڈیو وائرل ہوگئی، جس میں وہ اکشے کمار کی تعریفیں جب کہ شاہ رخ خان کی اداکاری کی برائیاں کرتے دکھائی دیے، ساتھ ہی انہوں نے شاہ رخ خان کو ’بورنگ ایکٹر‘ بھی قرار دیا۔

’بھارتی خبررساں ادارے‘ کے مطابق نصیر الدین شاہ کے پرانے انٹرویو کا کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے، جس میں وہ بولی ووڈ کے معروف اداکاروں کے بارے میں کھل کر بات کرتے دکھائی دیے۔

ویڈیو میں انہو نے شاہ رخ خان پر تنقید کرتے ہوئے انہیں ’بورنگ ایکٹر‘ قرار دیا جبکہ اکشے کمار کی اداکاری کی صلاحیتوں کو سراہا۔

نصیر الدین شاہ نے انٹرویو میں کہا کہ وہ عام طور پر بولی ووڈ کے بڑے ستاروں جیسے خانز، کمارز یا دیوگنز کی فلمیں دیکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے بہت سے بڑے ستاروں کے ساتھ کام کیا ہے لیکن انہیں کسی نے خاص متاثر نہیں کیا البتہ اکشے کمار ایک ایسے اداکار ہیں جن کی وہ بہت قدر کرتے ہیں۔

اداکار کا کہنا تھا کہ اکشے کمار نے بغیر کسی گائیڈنس یا گاڈ فادر کے اپنی محنت سے انڈسٹری میں جگہ بنائی، اب ان کی اداکاری میں صلاحیت کے آثار نظر آتے ہیں اور طویل عرصے کے بعد وہ ایک اچھے اداکار بن چکے ہیں۔

انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ اکشے کمار اداکاری کر کر کے بالآخر اداکاری سیکھ گئے اور اب ان کی اداکاری بہتر ہے، وہ انہیں اچھے لگتے ہیں۔

جب انٹرویو لینے والے نے شاہ رخ خان کا ذکر کیا کہ انہوں نے بھی بغیر کسی سپورٹ کے کامیابی حاصل کی تو نصیر الدین شاہ نے اعتراف کیا کہ ایسا ہی ہے اور وہ اس ضمن میں شاہ رخ کی عزت اور قدر کرتے ہیں۔

نصیر الدین شاہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ شاہ رخ خان کی قدر کرتے ہیں لیکن ایک اداکار کے طور پر وہ اب بورنگ ہو گئے ہیں۔

نصیر الدین شاہ کے پرانے انٹرویو کی کلپ سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہے اور مداحوں کی جانب سے اس پر بحث جاری ہے، کچھ نے شاہ رخ کی اداکاری جب کہ کچھ نے نصیرالدین شاہ کی ایمانداری کی تعریفیں کیں۔

خیال رہے کہ نصیر الدین شاہ نے اکشے کمار کے ساتھ فلم ’موہرا‘ جبکہ شاہ رخ خان کے ساتھ ’کبھی ہاں کبھی نہ‘، ’چمتکار‘ اور ’میں ہوں نہ‘ جیسی فلموں میں کام کیا ہے، وہ اجے دیوگن سمیت دیگر معروف اسٹارز کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔

View this post on Instagram

A post shared by MissMalini Showbiz (@missmalinibollywood)

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: نصیر الدین شاہ کی اداکاری شاہ رخ خان اکشے کمار نے شاہ رخ انہوں نے کے ساتھ

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید