ایم آر آئی کی رپورٹ بہتر ہے، وجہ ڈاکٹر سے معلوم کریں، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے حال ہی میں والٹر ریڈ نیشنل ملٹری میڈیکل سینٹر میں ایم آر آئی کرایا، جس کے نتائج کو انہوں نے بے حد شاندار قرار دیا، یہ پہلا موقع ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سال اپنے دوسرے طبی معائنے کی وجہ خود بیان کی ہے، اس اعلان نے ان کی صحت سے متعلق نئے سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہاہاں میں نے ایم آر آئی کرایا، سب کچھ بہترین تھا، رپورٹ مکمل طور پر شفاف ہے، ڈاکٹرز نے کہا کہ میری عمر کے لحاظ سے یہ سب سے اچھی رپورٹس میں سے ایک ہے۔
79 سالہ ٹرمپ جو امریکی تاریخ کے معمر ترین صدور میں شمار ہوتے ہیں ، انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایم آر آئی کی ضرورت کیوں پیش آئی، ان کا کہنا تھا کہ تفصیلات ڈاکٹرز سے پوچھ لی جائیں۔
ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس نے اس غیر معمولی دوسرے میڈیکل ٹیسٹ کی تفصیلات عام نہیں کیں جب کہ عموماً امریکی صدور سال میں ایک بار مکمل معائنہ کرواتے ہیں۔
رواں سال کے اوائل میں وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی تھی کہ صدر ٹرمپ کو ٹانگوں میں سوجن کی شکایت کے بعد معائنہ کیا گیا تھا اور انہیں دائمی وریدی کمزوری کی تشخیص ہوئی، یہ وہ حالت ہے جس میں رگوں کے اندر خون واپس دل کی جانب بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ بیماری عموماً عمر کے ساتھ بڑھتی ہے اور اس کے نتیجے میں ٹانگوں میں سوجن، درد یا کھنچاؤ کی شکایت ہوسکتی ہے۔
صدر ٹرمپ کی صحت پر توجہ اس وقت مزید بڑھی جب ان کے دائیں ہاتھ پر بار بار ظاہر ہونے والے نیل اور خراشوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آئیں۔
اس بارے میں وائٹ ہاؤس کے معالج ڈاکٹر شان باربابیلا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ خراشیں زیادہ مصافحہ کرنے اور روزانہ استعمال ہونے والی اسپرین کی وجہ سے ظاہر ہوتی ہیں جو خون پتلا کرنے کے باعث جلد پر نشان چھوڑ سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے مخصوص انداز میں بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ اگر رپورٹس خراب ہوتیں تو میں خود بتا دیتا لیکن ڈاکٹرز نے کہا کہ یہ عمر کے لحاظ سے بہترین رپورٹ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔