پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری تنازع کو بہت جلد حل کر لیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا ہے کہ وہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری بحران کو بہت جلد حل کر لیں گے، جب کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان امن مذاکرات کا دوسرا دور جاری ہے۔
ٹرمپ نے ملائیشیا میں آسیان سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، مجھے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان اور افغانستان نے بات چیت شروع کر دی ہے۔ میں یہ مسئلہ بہت جلد حل کروا دوں گا۔
یہ بھی پڑھیے: مودی کو فون پر بتا دیا کہ پاکستان اور انڈیا کی جنگ نہیں ہونی چاہیے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ
انہوں نے یہ بات تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان امن معاہدے پر دستخط کی تقریب کے دوران کہی اور پاکستانی قیادت کو عظیم لوگ قرار دیا۔
دوسری طرف پاک فوج نے سرحد پر 2 بڑی دراندازی کی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے 25 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے جب کہ 5 پاکستانی فوجی بھی شہید ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے: استنبول مذاکرات میں پیشرفت نہ ہو سکی، دہشتگردوں کی سرپرستی منظور نہیں، پاکستان نے افغان طالبان پر واضح کردیا
اگرچہ پاکستانی حکومت کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، لیکن ٹرمپ کے تازہ بیان سے اسلام آباد کی سیاسی و عسکری قیادت کو نئی امید ملی ہے، جو واشنگٹن سے تعلقات مزید بہتر بنانے کی خواہش رکھتی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان نے رواں سال کے اوائل میں بھارت کے ساتھ بحران میں ٹرمپ کے کردار کو بھی سراہا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان امریکا ڈونلڈ ٹرمپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان امریکا ڈونلڈ ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز