حماس نے یرغمالیوں کی لاشیں واپس نہ کیں تو کارروائی ہوگی، صدرٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
امن معاہدے میں شامل ممالک اگلے 48 گھنٹوں میں پیش رفت پر گہری نظررکھیں گے
ضرورت پڑی تو قطر غزہ میں امن فوج بھیجنے کو تیار ہے،دوحا میں امیر قطر سے ملاقات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حماس نے یرغمالیوں کی لاشیں واپس نہ کیں تو امن معاہدے میں شامل دیگر ممالک کارروائی کریں گے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ میں موجود یرغمالیوں کی واپسی کے حوالے سے اگلے 48 گھنٹوں میں پیشرفت پر گہری نظر رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر حماس نے یرغمالیوں کی لاشیں واپس نہ کیں تو امن معاہدے میں شامل دیگرممالک کارروائی کریں گے۔ دوسری جانب آسیان سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ملائیشیا جاتے ہوئے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مختصر قیام کے دوران امیر قطر سے ملاقات کے وقت ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ضرورت پڑی تو قطر غزہ میں امن فوج بھیجنے کو تیار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: یرغمالیوں کی
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔