پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے متعدد قوتیں کام کر رہی ہیں، جو سیاسی، معاشی، سیکیورٹی اور خارجی سطح پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ یہ قوتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور ملک کے مجموعی استحکام کو کمزور کررہی ہیں۔

حالیہ دنوں میں حکومت اور فوجی قیادت کی جانب سے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان اب ایک ہارڈ اسٹیٹ کی طرف جا رہا ہے جس کا مطلب صاف ہے کہ اب دہشتگردی اور ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرنے والوں کے لیے زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنائی جائے گی، اور ایسی قوتوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائےگا۔

یہ بھی پڑھیں: سیاسی عدم استحکام کے باعث پاکستان اسٹاک مارکیٹ کریش کرگئی

پاکستان کے اس عزم کا عملی اظہار ہمیں 11 اور 12 اکتوبر کو افغانستان کے ساتھ فوجی کشیدگی اور اس سے قبل جنوری 2024 میں پاکستان کے ایران پر آپریشن مرگ بر سرمچار کے دوران دیکھنے میں آیا۔

عدم استحکام پیدا کرنے والی قوتیں کیا ہیں اور کیسے کام کررہی ہیں؟

یہ گروہ پاکستان کی سیکیورٹی کو سب سے بڑا چیلنج پیش کررہے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ نیشنلسٹ گروہ جیسے (بی ایل اے) حملوں کے ذریعے کام کرتے ہیں، جو سیاسی انتشار کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

مثال کے طور پر ٹی ٹی پی نے 2021 سے اب تک 70 سے زیادہ مختلف دہشتگرد گروہوں کو خود میں جذب کیا ہے، جو افغانستان سے آپریٹ کرتے ہیں اور پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ اِسی طرح سے آئی ایس آئی ایس یا داعش جس کی افغانستان کے دو صوبوں میں بڑی موجودگی جنہیں وہ ریکروٹمنٹ، ٹریننگ اور ریکوری کے لیے استعمال کرتا ہے۔

یہ گروہ مقامی غصے جیسے معاشی عدم مساوات اور فوجی آپریشنز کو بھڑکاتے ہیں، جس سے داخلی تشدد میں اضافہ ہوتا ہے۔ 2025 میں ٹی ٹی پی کی طرف سے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان 19 اپریل سے جو اعتماد سازی کا عمل شروع ہوا تھا اس کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

جہاں ایک طرف افغانستان پاکستان میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی کارروائیوں کے خلاف خود کو بے قصور کہتا رہا لیکن حالیہ 11 اور 12 اکتوبر کی شدید جھڑپوں کے بعد انہوں نے دوحہ میں تسلیم کیا اور ٹی ٹی پی کو روکنے کی یقین دہانی کروائی۔

بھارت جو مختلف حربوں کے ذریعے پاکستان اور افغانستان کے اندر خلیج کو اور گہرا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مئی 2025 میں پاکستان سے شکست کے بعد بھارت نے افغان طالبان کے ساتھ تعلقات میں زیادہ مضبوطی اور گہرائی پیدا کرنے کی کوشش کی۔

اِس وقت بھارت کی مالی مدد سے افغانستان میں ڈیم بنانے کے بیانات زیرِگردش ہیں جو آبی جارحیت کے زمرے میں آتے ہیں اور بھارت پوری کوشش کررہا ہے کہ کس طرح سے پاکستان کو مشرقی اور مغربی محاذ پر انگیج کرکے اس کی معاشی ترقی کے عمل کو سبوتاژ کیا جائے۔

’سوشل میڈیا کمپنیز دہشتگرد تنظیموں کے اکاؤنٹ بلاک کریں‘

جولائی 2025 میں پاکستان نے سوشل میڈیا کمپنیز پر زور دیا کہ وہ دہشتگرد تنظیموں جیسا کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بند کریں کیونکہ یہ تنظیمیں اِن اکاؤنٹس کے ذریعے سے پروپیگنڈا پھیلاتی ہیں۔

پاکستان نے اپنی ریڈ لائنز بتا دی ہیں، بریگیڈیئر (ر) آصف ہارون

دفاعی تجزیہ نگار بریگیڈیئر (ر) آصف ہارون کہتے ہیں کہ پاکستان اپنی حکمتِ عملی پہلے ہی واضح کر چکا ہے، اور اپنی ریڈ لائنز بتاتے ہوئے مؤقف کھل کر بیان کردیا ہے کہ ٹی ٹی پی سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہاکہ امریکا اور اقوام متحدہ بھی ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو دہشتگرد تنظیمیں قرار دے چکے ہیں لیکن افغان طالبان حکومت اِن کو دہشتگرد ماننے کو تیار نہیں تھی۔ ہم نے نہ صرف اپنا مؤقف واضح کر دیا بلکہ دو روزہ فوجی کشیدگی میں واضح بھی کر دیا۔

’پاکستان ٹی ٹی پی کو فتنہ الخوارج جبکہ بی ایل اے کو فتنہ الہندوستان کہتا ہے جو صاف ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کی اِن تنظیموں کے لیے پالیسی اب کیا ہے۔ ہم یہ واضح کر چُکے ہیں کہ ہم نہ صرف ان دہشتگردوں کو بلکہ اِن کے معاونت کاروں خواہ وہ پاکستان میں ہوں یا افغانستان میں، اِن کو ماریں گے۔‘

’ہم نے افغانستان کے اندر جاکر اہداف کو نشانہ بنایا‘

آصف ہارون نے کہاکہ اب ہماری پالیسی واضح ہو گئی ہے، ہم نے سپن بولدک میں افغان طالبان کا پورا بریگیڈ ہیڈ کوارٹر اُڑایا ہے، قندھار میں ملا عمر کے وقت کا ایک بہت بڑا کیمپ جس کا ایک حصہ خودکُش بمبار تیار کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا اور دوسرا دہشتگردی کی تربیت کے لیے استعمال ہوتا تھا، ہم نے دونوں حصے اُڑا دیے۔

’کابل میں نور ولی محسود کی گاڑی پر میزائل فائر کیا گیا لیکن کچھ وقت پہلے گاڑی سے نکل جانے کی وجہ سے وہ بچ گیا۔ حافظ گُل بہادر جو پاکستان کا سب سے بڑا دشمن ہے، ہم نے اُس کے کیمپوں کو پکتیا، پکتیکا اور خوست میں نشانہ بنایا جس میں وہ خود بھی مارا گیا اور 70 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔‘

آصف ہارون نے مزید کہاکہ بی ایل اے اپنی سرگرمیاں سیستان سے کرتا ہے وہاں بھی ہم نے حملے کیے ہیں، جہاں تک مذاکرات کی پالیسی کا تعلق ہے تو اِس وقت پاکستان ایک مضبوط پوزیشن سے بات کر رہا ہے جبکہ افغان طالبان اپنے بھارتی مشیران کے زیرِاثر پاکستان کا پانی روکنے کی باتیں کرکے اپنی مضبوط پوزیشن بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو وہ کر نہیں سکتے کیوںکہ اِس وقت افغانستان معاشی اور غذائی بحران کا شکار ہے۔

بات چیت اور فوجی آپریشنز ساتھ ساتھ ہونے چاہییں، طاہر خان

افغان اُمور کے حوالے سے معروف صحافی اور تجزیہ نگار طاہر خان نے ’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ عدم استحکام پیدا کرنے والی قوتوں کے خلاف دونوں ٹریکس استعمال ہونے چاہییں یعنی بات چیت اور ملٹری آپریشنز ساتھ ساتھ ہونے چاہییں، اِس وقت ہماری ریاست کی پالیسی ہے کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز جتنے بڑے پیمانے پر آپریشنز کرتی ہیں اُتنا ہی اُن کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں اور اُتنی ہی قیمتی جانیں جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر 23 اکتوبر کو ہنگو میں خیبرپختونخوا پولیس کے 3 اہلکار شہید ہوئے۔

’دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہوگئے‘

’پہلے ایک دھماکا ہوا، جب پولیس وہاں پہنچی تو دہشتگرد اپنی پوزیشنیں سنبھال چُکے تھے اور اُنہوں نے 3 پولیس والوں کو شہید کیا۔ یہ اب ایک پیٹرن ہے کہ پہلے ایک دھماکا کیا جاتا ہے اور جب سیکیورٹی اہلکار وہاں پہنچتے ہیں تو پھر اُن پر حملہ کر دیا جاتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی فوری رہائی ممکن نہیں، عدم استحکام کی سازش ناکام بنائیں گے، رانا ثنا اللہ

طاہر خان نے کہاکہ اب دہشتگردی کے خلاف آپریشنز پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہوگئے ہیں کیونکہ دشمن اب آبادیوں اور عام لوگوں کے اندر رہتا ہے، اُس کے پاس اسلحہ اور مین پاور بھی زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلے کے حل کے لیے آپریشنز اور بات چیت کے دونوں ٹریکس ساتھ ساتھ چلنے چاہییں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اندرونی قوتیں پاک افغان جنگ ٹی ٹی پی دہشتگردی سازشیں سیاسی و عسکری قیادت عدم استحکام ہارڈ اسٹیٹ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اندرونی قوتیں پاک افغان جنگ ٹی ٹی پی دہشتگردی سیاسی و عسکری قیادت عدم استحکام ہارڈ اسٹیٹ وی نیوز عدم استحکام پیدا کرنے افغان طالبان افغانستان کے پاکستان میں کہ پاکستان ا صف ہارون بی ایل اے انہوں نے نے کہاکہ کے لیے ا ٹی ٹی پی ہیں اور کوشش کر بات چیت کرنے کی کرتا ہے کی کوشش کے خلاف

پڑھیں:

3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی

اسلام ٹائمز: یہ محض ایک جنازہ نہ تھا بلکہ ایک عہد کی رخصتی کا منظر تھا۔ ایک ایسا لمحہ جس میں کروڑوں دل ایک ساتھ دھڑک رہے تھے، ایک ساتھ رو رہے تھے اور ایک ساتھ اپنے قائد کو الوداع کہہ رہے تھے۔ تاریخ نے شاید ہی کبھی ایسا دردناک اور پُرہجوم منظر دیکھا ہو، جہاں عقیدت، محبت، اشک اور جدائی سب ایک ہی منظر میں سمٹ آئے ہوں۔ یوں امام خمینی مٹی کی آغوش میں اتر گئے، مگر ان کی یاد، ان کا پیغام اور ان کا اثر لاکھوں دلوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہوگیا۔ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی

3 جون 1989ء (13 خرداد 1368 ہجری شمسی) کی شام جب امام خمینیؒ کی رحلت کی خبر آہستہ آہستہ تہران کی فضا میں پھیلنے لگی تو گویا ایک قوم پر سکوتِ غم  طاری ہوگیا۔ وہ شخصیت جس کی آواز نے انقلاب کو جنم دیا تھا، اب خاموش ہو چکی تھی۔ آنکھیں اشک بار تھیں، دل سوگوار تھے اور فضائیں غم و اندوہ سے بوجھل تھیں۔ سید حسن عارفی نے  3 جون 1989ء کے حوالے سے اپنی یادداشت طبیبِ دلھا میں لکھا ہے کہ 3 جون 1989ء (13 خرداد 1368 ہجری شمسی) کی نصف شب سے حضرت امام خمینیؒ کا بلڈ پریشر گرنا شروع ہوگیا اور غنودگی میں اضافہ ہونے لگا۔ صبح 5 بجے، اگرچہ جسم کا درجۂ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ تھا، لیکن امام عزیزؒ کو سردی محسوس ہو رہی تھی۔

3 جون 1989ء کی صبح 9 بج کر 14 منٹ پر ہمارے عزیز امام کو دل کی دھڑکن تیز ہونے، کمزوری، نقاہت اور شریانی بلڈ پریشر کے بتدریج کم ہونے کی علامات ظاہر ہوئیں۔ صبح 10 بجے ڈاکٹر سیم فروش نے ضروری طبی اقدامات کیے، اور گردوں کے اخراجی مسئلے کے باعث ڈاکٹر قدس اور ڈاکٹر رہبر کو بھی طلب کیا گیا۔ نس میں دی جانے والی رطوبت (سرم) اور خون کے پروٹین کی تیاری (البیومن) دیے جانے کے باوجود، اور پیشاب کے اخراج میں رکاوٹ کی وجہ سے، بلڈ پریشر مسلسل کم ہوتا جا رہا تھا۔ حضرت امام قدرے غنودگی میں تھے، لیکن مکمل طور پر ہوش و حواس میں تھے۔

حضرت امام کی حالت کی سنگینی سے اہلِ خانہ، قریبی افراد اور ملکی ذمہ داران کو آگاہ کر دیا گیا۔ طبی ٹیم کے تمام ارکان کو طلب کر لیا گیا۔ امام عزیز ملاقاتوں، لوگوں کی آمد و رفت اور اپنی بگڑتی ہوئی حالت سے پوری طرح باخبر تھے اور مسلسل ذکرِ الٰہی میں مشغول تھے۔ وہ برابر سورۂ حمد اور دیگر سورتیں تلاوت کر رہے تھے اور جانتے تھے کہ وہ اپنی بابرکت زندگی کے آخری لمحات گزار رہے ہیں۔ حضرت امام خمینی نے دوپہر کی نماز عین شرعی وقت پر ادا کی اور دوپہر کے کھانے میں صرف مائعات (پانی اور پتلی اشیاء) استعمال کیے۔ دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر انہیں پہلی مرتبہ قے ہوئی، اور انہوں نے فوراً حکم دیا کہ ان کے تمام کپڑے بدل دیے جائیں اور بستر کی چادریں بھی تبدیل کر دی جائیں۔

شام 3 بجے دل کی دھڑکن مزید سست ہوگئی۔ اپنی بابرکت زندگی کے آخری لمحات میں بھی وہ پوری ہوشیاری اور سختی سے اپنی ظاہری صفائی اور پاکیزگی کا خیال رکھتے تھے۔ وہ مسلسل سورۂ حمد اور دیگر سورتیں پڑھتے رہے اور بخوبی جانتے تھے کہ یہ آخری لمحات ہیں۔ تقریباً 3 بجے، بیماری اور شریانی بلڈ پریشر کے شدید زوال کے باعث پیدا ہونے والی کمزوری اور ناتوانی کے عالم میں انہوں نے بلند آواز سے مجھے پکارا۔ میں نے اپنا سر اور کان ان کے لرزتے ہوئے ہونٹوں کے قریب کیے اور عرض کیا: "آقا جان! فرمائیے، میں حاضر ہوں۔" انہوں نے فرمایا: "اگر وضو وقتِ نماز داخل ہونے سے پہلے کیا جائے تو نیت اس طرح ہونی چاہیئے۔"

میں نے فوراً حاج احمد آقا خمینی اور حجت الاسلام و المسلمین جناب آشتیانی کو، جو قریب ہی موجود تھے، ان کی خدمت میں بلا لیا۔ دراصل ان کی آخری درخواست مجھے بلانا تھی اور ان کی آخری گفتگو ایک شرعی اور فقہی مسئلے سے متعلق تھی۔ دوپہر 2 بج کر 59 منٹ پر ان کا دل، سامنے موجود نوارِ قلب (الیکٹرو کارڈیوگرام) کے مطابق دھڑک رہا تھا اور بلڈ پریشر مسلسل گر رہا تھا، لیکن امام عزیز مسلسل سورۂ حمد اور دیگر سورتوں کی تلاوت میں مشغول رہے۔ اگرچہ بلڈ پریشر بہت کم ہو چکا تھا، پھر بھی ان  کے ہوش و حواس قائم تھے۔

اب اہلِ خانہ ایک ایک کر کے پروانوں کی طرح ان کے وجود کی شمع کے گرد جمع ہو رہے تھے، لیکن یہ روشن اور عالم تاب چراغ بجھنے کے قریب تھا۔ ہر لمحہ اس کی نورانی روشنی کم ہوتی جا رہی تھی اور ہمارے دلوں کا غم بڑھتا جا رہا تھا۔ اس وقت جب حضرت امام عزیز کو شدید سانس کی تنگی اور شدید دل کی دھڑکن تکلیف دے رہی تھی اور ان کا بلڈ پریشر انتہائی حد تک گر چکا تھا جس کے باعث جسم کے تمام اعضاء کو خون کی فراہمی متاثر ہوگئی تھی، اور ساتھ ہی کینسر کے خلیات پورے جسم میں پھیل چکے تھے، ہم یہ مشاہدہ کر رہے تھے کہ یہ بے مثال ہستی اس شدید بیماری کے باوجود اپنی صفائی، پاکیزگی اور ظاہری آراستگی کا خاص خیال رکھ رہی تھی۔ اگرچہ پچھلے چند دنوں سے امام عزیز شدید غنودگی کا شکار تھے، لیکن وہ نمازوں کے اوقات کی سختی سے پابندی کرتے اور انہیں وقت پر ادا کرنے کے خواہش مند رہتے تھے۔

اس دن بھی صبح 9 بجے کے بعد ان کی حالت تیزی سے بگڑنے لگی اور بلڈ پریشر مسلسل گرنا شروع ہو گیا۔ غنودگی میں اضافہ تھا، لیکن کبھی کبھار وہ آنکھیں کھول کر اردگرد دیکھتے تھے۔ دوپہر 12 بجے سے پہلے کئی بار فرمایا کہ انہیں نمازِ ظہر کا وقت بتایا جائے۔ اس کے بعد وضو اور تیمم کے امتزاج کے ساتھ، شدید کم بلڈ پریشر، تیز دل کی دھڑکن (نوارِ قلب کے مطابق) اور شدید سانس کی تکلیف کے باوجود، محترم جناب حجت الاسلام والمسلمین حاج محمد علی انصاری کے تعاون سے انہوں نے اپنی آخری نمازِ ظہر و عصر ادا فرمائی۔ ان نازک لمحات میں جب امام کی ذات شدید بیماریوں کے خطرے میں تھی، انہوں نے امام حسین علیہ السلام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے، جو یومِ عاشورا کے وقت نماز ادا فرماتے ہیں، اس نماز کے ذریعے اپنے مشن کا پیغام عملی طور پر لاکھوں عقیدت مندوں تک پہنچایا۔

ہم انتہائی تکلیف دہ اور مشکل لمحات سے گزر رہے تھے۔ امام عزیز، جن کی کم ہوتی ہوئی بلڈ پریشر نے انہیں شدید کمزوری اور ناتوانی میں مبتلا کر دیا تھا، کبھی کبھار آنکھیں کھول کر اردگرد دیکھتے تھے۔ میں نے یہ احساس دلانے کے لیے کہ آخری لمحات میں بھی طبی ٹیم، خصوصاً میں، ان کی خدمت میں موجود ہے، ان کے دائیں ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ حضرت امام نے محسوس کیا کہ آخری وقت میں محبت، عقیدت اور والد و اولاد جیسے پاک جذبات کا تبادلہ ہو رہا ہے، اور ساتھ ہی مرید و مراد کا رشتہ بھی قائم ہے۔ اس لمحے کے بعد انہوں نے میرا ہاتھ بالکل نہ چھوڑا، اور میں بھی یہ جانتے ہوئے کہ آخری لمحات میں مریض کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے، مسلسل مانیٹر پر ان کی دل کی دھڑکن دیکھتا رہا اور ان کا ہاتھ نرمی سے تھامے رکھا۔شام 3 بج کر 46 منٹ پر دل کی دھڑکن تیز اور بے ترتیب ہو گئی، اور یہ روشنی امیدوں کے افق پر مدھم پڑنے لگی۔

بلڈ پریشر کا مسلسل گرنا، دل کی دھڑکن کا بے ترتیب اور تیز ہونا، اور علاج کا مؤثر جواب نہ دینا، حضرت امام کی حالت کی شدید خرابی کو ظاہر کر رہا تھا، اور ہر لمحہ کسی بڑے حادثے کا خدشہ بڑھ رہا تھا۔ اسی لیے طبی ٹیم، سرجنز اور نرسیں جدید ترین طبی آلات کے ساتھ امام کے بستر کے قریب موجود تھیں تاکہ فوری اقدامات کیے جا سکیں۔ اچانک شام 3 بج کر 58 منٹ پر دل کے اوپر والے حصے سے نیچے والے حصے تک برقی ترسیل بند ہوگئی، جس کے نتیجے میں دل میں بے ترتیبی (فبریلیشن) پیدا ہوئی اور بلڈ پریشر صفر ہو گیا۔

شام 3 بج کر 58 منٹ پر نوارِ قلب کے مطابق دل نے حرکت بند کر دی، تاہم مکمل طبی تیاری کے ساتھ بار بار برقی جھٹکے (الیکٹروشاک)، سینے پر بیرونی پیس میکر (بجلی سے چلنے والا آلہ) لگانا، سانس کی نالی میں ٹیوب ڈال کر مصنوعی تنفس سے جوڑنا، عارضی طور پر دل کی دھڑکن اور سانس کو بحال کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن امام عزیز اس وقت بے ہوشی کی حالت میں تھے۔

شام 10 بج کر 22 منٹ پر پیس میکر (بیرونی برقی محرک آلہ) کام کر رہا تھا، لیکن دل کے عضلات اس کی دی گئی تحریکوں کے باوجود سکڑ نہیں رہے تھے۔ شام 10 بج کر 23 منٹ پر حضرت امام عزیز کا دل، جو اپنی پوری زندگی میں ہر منٹ تقریباً 60 سے 70 مرتبہ، ہر گھنٹے تقریباً 3600 مرتبہ، ہر روز 86400 مرتبہ، ہر سال تقریباً 30936000 مرتبہ، اور اپنی 90 سالہ بابرکت عمر میں مجموعی طور پر تقریباً 2784240000 مرتبہ اللہ کی رضا، اسلام کی سربلندی، کلمۂ لا الٰہ الا اللہ کی بلندی، مستضعفین کی آزادی، ایرانی قوم اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی عزت و سربلندی کے لیے دھڑکا تھا، اپنی آخری دھڑکن کے ساتھ ہمیشہ کے لیے رک گیا، اور اپنے چاہنے والوں اور عاشقوں کو غم و اندوہ میں ڈبو گیا۔
’’بگذار تا بگریم چون ابر در بہاران ۔۔۔ کز سنگ نالہ خیزد وقتِ وداع یاران‘‘
اور اس آخری دھڑکن کے ساتھ، انسانیت نے علم، تقویٰ، ایمان، استقامت، تسلیم نہ ہونے والے جذبے اور ایثار کے پیکر پر ایک گہرا اور کاری صدمہ محسوس کیا۔ انہوں نے اس دنیا سے آنکھیں بند کر لیں، لیکن اسلام کی اشاعت اور اس رہنما مکتب کے ذریعے لاکھوں سوئے ہوئے دلوں کو بیدار کر دیا:
’’ای خوش آن رہبر کہ بعد از مرگ زاد ۔۔۔ چشمِ خود بست و چشمِ ما گشاد‘‘
بے شک اس کی روشن شمعِ حیات ظاہراً بجھ گئی تھی، لیکن یہ وہ چراغ تھا جو قافلۂ انسانیت کے حسینی کرداروں کے دل میں ہمیشہ روشن رہتا ہے اور روشنی بکھیرتا رہتا ہے۔ ان کی حیات ایک ایسی نورانی روشنی تھی جس نے 90 سال تک ہماری تاریک دنیا کو منور اور گلزار بنایا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے لیے، ان کے چاہنے والوں اور فرزندوں کے لیے، وہ رخصت نہیں ہوئے۔ وہ زندہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ وہ ہمارے راستے کا چراغ ہیں۔ خدا کی قسم، وہ ہمارے وجود کے ذرے ذرے میں، ہمارے خلیوں، حتیٰ کہ ایٹموں (پروٹونز اور نیوٹرانز) تک میں موجود ہیں، اور جب تک ہم زندہ ہیں، ان کی یاد، ان کی تعلیمات اور ان کے انسان ساز اسلامی پیغام کے تابع رہیں گے:
“ہرگز نمیرد آنکہ دلش زنده شد به عشق ۔۔۔ ثبت است بر جریدۂ عالم دوامِ ما”
سید حسن عارفی کی یادادشت کے بعد اب آیئے  4 جون 1989ء (14 خرداد 1368 ہجری شمسی) کی غمگین اور سوگوار صبح پر ایک نگاہ ڈالئے۔ صبح سویرے ریڈیو سے خبرِ ارتحال نشر ہوئی تو لاکھوں دلوں پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ مرد، عورتیں، بوڑھے اور نوجوان سب اپنے محبوب رہبر کی آخری جھلک پانے کے لیے بے تاب تھے۔ جب جسدِ خاکی مصلیٰ تہران میں رکھا گیا تو اشکوں کا ایک سمندر امڈ آیا۔ ہر آنکھ نم تھی اور ہر زبان پر دعا و درود جاری تھا۔

6 جون 1989ء (16 خرداد 1368 ہجری شمسی) کو نمازِ جنازہ کے بعد جب تدفین کے لیے پیکرِ امام کو بہشتِ زہرا کی جانب لے جایا گیا تو جذبات کا طوفان اس قدر شدید تھا کہ لاکھوں سوگوار اپنے آنسوؤں اور عقیدت پر قابو نہ رکھ سکے۔ ہجوم بڑھتا گیا، انتظامات ٹوٹتے گئے، اور ایک ایسا منظر سامنے آیا جس نے ہر دیکھنے والے کو رُلا دیا۔ تابوت مجمع کے دباؤ میں آ گیا، اور تدفین کا عمل وقتی طور پر روکنا پڑا۔

یہ محض ایک جنازہ نہ تھا بلکہ ایک عہد کی رخصتی کا منظر تھا۔ ایک ایسا لمحہ جس میں کروڑوں دل ایک ساتھ دھڑک رہے تھے، ایک ساتھ رو رہے تھے اور ایک ساتھ اپنے قائد کو الوداع کہہ رہے تھے۔ تاریخ نے شاید ہی کبھی ایسا دردناک اور پُرہجوم منظر دیکھا ہو، جہاں عقیدت، محبت، اشک اور جدائی سب ایک ہی منظر میں سمٹ آئے ہوں۔ یوں امام خمینی مٹی کی آغوش میں اتر گئے، مگر ان کی یاد، ان کا پیغام اور ان کا اثر لاکھوں دلوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہوگیا۔

متعلقہ مضامین

  • کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، 4 افراد ہلاک
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟