پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازشیں، ایسی قوتوں سے کیسے نبرد آزما ہونا چاہیے؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے متعدد قوتیں کام کر رہی ہیں، جو سیاسی، معاشی، سیکیورٹی اور خارجی سطح پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ یہ قوتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور ملک کے مجموعی استحکام کو کمزور کررہی ہیں۔
حالیہ دنوں میں حکومت اور فوجی قیادت کی جانب سے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان اب ایک ہارڈ اسٹیٹ کی طرف جا رہا ہے جس کا مطلب صاف ہے کہ اب دہشتگردی اور ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرنے والوں کے لیے زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنائی جائے گی، اور ایسی قوتوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائےگا۔
یہ بھی پڑھیں: سیاسی عدم استحکام کے باعث پاکستان اسٹاک مارکیٹ کریش کرگئی
پاکستان کے اس عزم کا عملی اظہار ہمیں 11 اور 12 اکتوبر کو افغانستان کے ساتھ فوجی کشیدگی اور اس سے قبل جنوری 2024 میں پاکستان کے ایران پر آپریشن مرگ بر سرمچار کے دوران دیکھنے میں آیا۔
عدم استحکام پیدا کرنے والی قوتیں کیا ہیں اور کیسے کام کررہی ہیں؟یہ گروہ پاکستان کی سیکیورٹی کو سب سے بڑا چیلنج پیش کررہے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ نیشنلسٹ گروہ جیسے (بی ایل اے) حملوں کے ذریعے کام کرتے ہیں، جو سیاسی انتشار کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔
مثال کے طور پر ٹی ٹی پی نے 2021 سے اب تک 70 سے زیادہ مختلف دہشتگرد گروہوں کو خود میں جذب کیا ہے، جو افغانستان سے آپریٹ کرتے ہیں اور پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ اِسی طرح سے آئی ایس آئی ایس یا داعش جس کی افغانستان کے دو صوبوں میں بڑی موجودگی جنہیں وہ ریکروٹمنٹ، ٹریننگ اور ریکوری کے لیے استعمال کرتا ہے۔
یہ گروہ مقامی غصے جیسے معاشی عدم مساوات اور فوجی آپریشنز کو بھڑکاتے ہیں، جس سے داخلی تشدد میں اضافہ ہوتا ہے۔ 2025 میں ٹی ٹی پی کی طرف سے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان 19 اپریل سے جو اعتماد سازی کا عمل شروع ہوا تھا اس کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
جہاں ایک طرف افغانستان پاکستان میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی کارروائیوں کے خلاف خود کو بے قصور کہتا رہا لیکن حالیہ 11 اور 12 اکتوبر کی شدید جھڑپوں کے بعد انہوں نے دوحہ میں تسلیم کیا اور ٹی ٹی پی کو روکنے کی یقین دہانی کروائی۔
بھارت جو مختلف حربوں کے ذریعے پاکستان اور افغانستان کے اندر خلیج کو اور گہرا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مئی 2025 میں پاکستان سے شکست کے بعد بھارت نے افغان طالبان کے ساتھ تعلقات میں زیادہ مضبوطی اور گہرائی پیدا کرنے کی کوشش کی۔
اِس وقت بھارت کی مالی مدد سے افغانستان میں ڈیم بنانے کے بیانات زیرِگردش ہیں جو آبی جارحیت کے زمرے میں آتے ہیں اور بھارت پوری کوشش کررہا ہے کہ کس طرح سے پاکستان کو مشرقی اور مغربی محاذ پر انگیج کرکے اس کی معاشی ترقی کے عمل کو سبوتاژ کیا جائے۔
’سوشل میڈیا کمپنیز دہشتگرد تنظیموں کے اکاؤنٹ بلاک کریں‘جولائی 2025 میں پاکستان نے سوشل میڈیا کمپنیز پر زور دیا کہ وہ دہشتگرد تنظیموں جیسا کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بند کریں کیونکہ یہ تنظیمیں اِن اکاؤنٹس کے ذریعے سے پروپیگنڈا پھیلاتی ہیں۔
پاکستان نے اپنی ریڈ لائنز بتا دی ہیں، بریگیڈیئر (ر) آصف ہاروندفاعی تجزیہ نگار بریگیڈیئر (ر) آصف ہارون کہتے ہیں کہ پاکستان اپنی حکمتِ عملی پہلے ہی واضح کر چکا ہے، اور اپنی ریڈ لائنز بتاتے ہوئے مؤقف کھل کر بیان کردیا ہے کہ ٹی ٹی پی سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ امریکا اور اقوام متحدہ بھی ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو دہشتگرد تنظیمیں قرار دے چکے ہیں لیکن افغان طالبان حکومت اِن کو دہشتگرد ماننے کو تیار نہیں تھی۔ ہم نے نہ صرف اپنا مؤقف واضح کر دیا بلکہ دو روزہ فوجی کشیدگی میں واضح بھی کر دیا۔
’پاکستان ٹی ٹی پی کو فتنہ الخوارج جبکہ بی ایل اے کو فتنہ الہندوستان کہتا ہے جو صاف ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کی اِن تنظیموں کے لیے پالیسی اب کیا ہے۔ ہم یہ واضح کر چُکے ہیں کہ ہم نہ صرف ان دہشتگردوں کو بلکہ اِن کے معاونت کاروں خواہ وہ پاکستان میں ہوں یا افغانستان میں، اِن کو ماریں گے۔‘
’ہم نے افغانستان کے اندر جاکر اہداف کو نشانہ بنایا‘آصف ہارون نے کہاکہ اب ہماری پالیسی واضح ہو گئی ہے، ہم نے سپن بولدک میں افغان طالبان کا پورا بریگیڈ ہیڈ کوارٹر اُڑایا ہے، قندھار میں ملا عمر کے وقت کا ایک بہت بڑا کیمپ جس کا ایک حصہ خودکُش بمبار تیار کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا اور دوسرا دہشتگردی کی تربیت کے لیے استعمال ہوتا تھا، ہم نے دونوں حصے اُڑا دیے۔
’کابل میں نور ولی محسود کی گاڑی پر میزائل فائر کیا گیا لیکن کچھ وقت پہلے گاڑی سے نکل جانے کی وجہ سے وہ بچ گیا۔ حافظ گُل بہادر جو پاکستان کا سب سے بڑا دشمن ہے، ہم نے اُس کے کیمپوں کو پکتیا، پکتیکا اور خوست میں نشانہ بنایا جس میں وہ خود بھی مارا گیا اور 70 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔‘
آصف ہارون نے مزید کہاکہ بی ایل اے اپنی سرگرمیاں سیستان سے کرتا ہے وہاں بھی ہم نے حملے کیے ہیں، جہاں تک مذاکرات کی پالیسی کا تعلق ہے تو اِس وقت پاکستان ایک مضبوط پوزیشن سے بات کر رہا ہے جبکہ افغان طالبان اپنے بھارتی مشیران کے زیرِاثر پاکستان کا پانی روکنے کی باتیں کرکے اپنی مضبوط پوزیشن بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو وہ کر نہیں سکتے کیوںکہ اِس وقت افغانستان معاشی اور غذائی بحران کا شکار ہے۔
بات چیت اور فوجی آپریشنز ساتھ ساتھ ہونے چاہییں، طاہر خانافغان اُمور کے حوالے سے معروف صحافی اور تجزیہ نگار طاہر خان نے ’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ عدم استحکام پیدا کرنے والی قوتوں کے خلاف دونوں ٹریکس استعمال ہونے چاہییں یعنی بات چیت اور ملٹری آپریشنز ساتھ ساتھ ہونے چاہییں، اِس وقت ہماری ریاست کی پالیسی ہے کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز جتنے بڑے پیمانے پر آپریشنز کرتی ہیں اُتنا ہی اُن کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں اور اُتنی ہی قیمتی جانیں جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر 23 اکتوبر کو ہنگو میں خیبرپختونخوا پولیس کے 3 اہلکار شہید ہوئے۔
’دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہوگئے‘’پہلے ایک دھماکا ہوا، جب پولیس وہاں پہنچی تو دہشتگرد اپنی پوزیشنیں سنبھال چُکے تھے اور اُنہوں نے 3 پولیس والوں کو شہید کیا۔ یہ اب ایک پیٹرن ہے کہ پہلے ایک دھماکا کیا جاتا ہے اور جب سیکیورٹی اہلکار وہاں پہنچتے ہیں تو پھر اُن پر حملہ کر دیا جاتا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی فوری رہائی ممکن نہیں، عدم استحکام کی سازش ناکام بنائیں گے، رانا ثنا اللہ
طاہر خان نے کہاکہ اب دہشتگردی کے خلاف آپریشنز پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہوگئے ہیں کیونکہ دشمن اب آبادیوں اور عام لوگوں کے اندر رہتا ہے، اُس کے پاس اسلحہ اور مین پاور بھی زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسئلے کے حل کے لیے آپریشنز اور بات چیت کے دونوں ٹریکس ساتھ ساتھ چلنے چاہییں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اندرونی قوتیں پاک افغان جنگ ٹی ٹی پی دہشتگردی سازشیں سیاسی و عسکری قیادت عدم استحکام ہارڈ اسٹیٹ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اندرونی قوتیں پاک افغان جنگ ٹی ٹی پی دہشتگردی سیاسی و عسکری قیادت عدم استحکام ہارڈ اسٹیٹ وی نیوز عدم استحکام پیدا کرنے افغان طالبان افغانستان کے پاکستان میں کہ پاکستان ا صف ہارون بی ایل اے انہوں نے نے کہاکہ کے لیے ا ٹی ٹی پی ہیں اور کوشش کر بات چیت کرنے کی کرتا ہے کی کوشش کے خلاف
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔