بزرگ مزدور رہنماء احمد حفیظ جمال بھی دنیا سے رخصت ہوئے
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بزرگ مزدور رہنما کامریڈ احمد حفیظ جمال کا 99 سال کی عمر میں گزشتہ روز کراچی میں انتقال ہوگیا۔
کامریڈ حفیظ جمال نے تمام زندگی محنت کش عوام اور محکوم طبقات کے حقوق کے لیے جدوجہد کی، وہ پاکستان کو ایک سوشلسٹ ریاست بنانے کا خواب اپنے دل میں سجائے اس دنیا سے کوچ کر گئے۔
آپ نے اپنی زندگی کا آغاز کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا سے شروع کیا، پاکستان میں جن سیاسی شخصیات کے ساتھ آپ نے سیاسی کام کیا ان میں مولانا بھاشانی، خان عبدالولی خان، میر غوث بخش بزنجو، ڈاکٹر م ر حسان، فیصح الدین سالار، حسن عسکری، لعل بخش رند، فیض احمد فیض، عابد حسن منٹو، کامریڈ انیس ہاشمی اور دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔
آپ کا شمار عوامی ورکرز پارٹی کے بانیوں میں ہوتا ہے، آپ نے محنت کش عوام کی سیاسی تعلیم و تربیت کی اور عملی طور پر محکوم و مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے ان کے شانہ بشانہ جدوجہد کرتے رہے۔
آپ طویل عرصے پاکستان سوشلسٹ پارٹی کے دفتر میں قیام پزیر رہے اور نوجوان کامریڈز کی تعلیم و تربیت کرتے رہے۔
صحافی و مصنف رشید جمال اور ڈپٹی ڈائریکٹر سیسی وسیم جمال, ندیم جمال، نعیم جمال اور عاصم جمال ان کے صاحبزادگان ہیں، انہوں نے ساری زندگی ایک فعال سیاسی کارکن کے طور پر گزاری اپنی جدوجہد کے دوران مارشل لاء میں اسیر بھی رہے، انہیں کئی مرتبہ شہر بدر رہنا پڑا ۔
ان کی نماز جنازہ مدنی مسجد فیڈرل بی ایریا میں ادا کی گئی اور تدفین محمد شاہ قبرستان میں ہوئی۔
نماز جنازہ کے موقع پر سیسی کی گورننگ باڈی کے ممبران، مختلف ڈائریکٹرز و افسران اور سی بی اے کے علاوہ مختلف یونینز کے عہدیداران اور سیسی کے ملازمین نے بڑی تعداد میں شرکت کی اس موقع پر پاکستان بار کونسل کے ممبر اختر حسین ایڈووکیٹ، سینئر وکیل شوکت حیات، مزدور رہنما منظور رضی، ناصر منصور سمیت سول سوسائٹی کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔
جب کہ کمشنر سیسی صفدر حسین رضوی، وائس کمشنر سکندر بلوچ، میڈیکل ایڈوائزر ڈاکٹر سعادت میمن، ڈائریکٹر پروکیورمنٹ ڈاکٹر اکرام شیخ، ڈائریکٹر غلام دستگیر سمیت دیگر افسران و اسٹاف نے وسیم جمال کے گھر پر ان سے والد کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس دکھ کی گھڑی میں تمام اہل خانہ دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے ایصال ثواب کے فاتحہ خوانی بھی کی، صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت و سعید غنی نے مزدور انقلابی رہنما کامریڈ حفیظ جمال کے انتقال پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور پیغام میں کہا کہ کامریڈ حفیظ جمال ایک انقلابی مزدور رہنما تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی مزدوروں اور محنت کشوں کے حقوق کے حصول میں وقف کردی تھی۔ کامریڈ حفیظ جمال مختلف مزدور تحاریک اور یونینز میں سرکردہ کردار ادا کرتے رہے۔ ان کے انتقال سے ہم ایک اچھے انسان کے ساتھ ساتھ ایک مزدور حقوق کے علمبردار سے محروم ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور انہیں اپنی جوار رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کے تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائیں۔ مختلف سیاسی و مزدور رہنماؤں نے بھی اپنے پیغامات میں مرحوم کی خدمت کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کامریڈ حفیظ جمال حقوق کے
پڑھیں:
جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔
بی جے پی حکومت پر سنگین الزاماتمنگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔
میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائیسابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔
امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواستممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘ نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔
ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مجھے سب کچھ معلوم ہےاپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔
مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار