بلتستان یونیورسٹی میں ناچ گانے کا پروگرام دینی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے، محمد اسحاق
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
ایم ڈبلیو ایم روندو کے صدر محمد اسحاق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلتستان یونیورسٹی میں حالیہ دنوں منعقد ہونے والے "کلچر شو" کے نام پر ہونے والے ناچ گانے، مخلوط اجتماعات اور بےپردگی پر مبنی پروگرام نہ صرف اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں بلکہ بلتستان کے روایتی، اخلاقی اور ثقافتی اقدار کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایم ڈبلیو ایم روندو کے صدر محمد اسحاق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلتستان یونیورسٹی میں حالیہ دنوں منعقد ہونے والے "کلچر شو" کے نام پر ہونے والے ناچ گانے، مخلوط اجتماعات اور بےپردگی پر مبنی پروگرام نہ صرف اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں بلکہ بلتستان کے روایتی، اخلاقی اور ثقافتی اقدار کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطہ ہمیشہ دینی غیرت، حیا اور پاکیزہ ثقافت کے حوالے سے پہچانا جاتا رہا ہے۔ ایسے پروگرام جن میں نوجوان نسل کو غفلت، بےحیائی اور مغربی طرزِ فکر کی جانب راغب کیا جائے، نہ ہماری جامعات کا مقصد ہیں اور نہ ہی ہماری قوم کے اخلاقی ڈھانچے سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ہم بلتستان یونیورسٹی کی انتظامیہ کو متنبہ کرتے ہیں کہ آئندہ اس نوعیت کے غیر اخلاقی اور غیر ثقافتی مظاہرے ہمارے معاشرے کے مذہبی و سماجی اصولوں کے خلاف ہیں، اور ان کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کی فوری تحقیقات کی جائے، متعلقہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے، اور مستقبل میں یونیورسٹی کے تمام پروگراموں کو اسلامی و اخلاقی اقدار کے مطابق ترتیب دیا جائے۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام اپنے دین، ثقافت اور حیا کے نظام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ یہ دھرتی اہلِ ایمان اور اہلِ غیرت کی سرزمین ہے، اور یہاں اسلامی اصولوں کے خلاف کسی عمل کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بلتستان یونیورسٹی کہ بلتستان ہونے والے
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔