data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شہر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی روک تھام اور ٹریفک نظام میں شفافیت لانے کے لیے جدید ای چالان سسٹم کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں ٹریفک نظم و ضبط کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ رکشے، موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں سب ہی کسی نہ کسی طرح قانون شکنی میں ملوث ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ شہری نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے، اور ای چالان سسٹم اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ ان کے مطابق اب ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں خودکار کیمروں کے ذریعے ریکارڈ کی جائیں گی، جس سے انسانی مداخلت اور جانبداری کے امکانات ختم ہو جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت شہر میں جدید نگرانی کے 12 ہزار کیمرے نصب کیے جائیں گے، جنہیں مرحلہ وار پورے سندھ میں وسعت دی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ شہری اگر کسی ای چالان پر وضاحت یا اعتراض کرنا چاہیں تو وہ قریبی ٹریک سینٹر سے رجوع کر سکتے ہیں، جہاں عوامی سہولت کے لیے ہیلپ ڈیسک قائم کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹریک سسٹم سندھ حکومت کا ڈیجیٹل شفافیت کی جانب ایک بڑا قدم ہے، جو شہریوں کی خدمت اور ان کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔

مراد علی شاہ نے مزید ہدایت کی کہ سڑکوں پر واضح سائن بورڈز لگائے جائیں تاکہ عوام کو قوانین سے مکمل آگاہی ہو۔ انہوں نے کہا کہ چالان کی رقم سے حاصل ہونے والے 15 فیصد کو عوامی فلاحی منصوبوں پر خرچ کیا جائے، جبکہ غلط یا ناجائز چالان کرنے والوں سے 30 فیصد جرمانہ وصول کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا جائے گا۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس