وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں ٹریفک خلاف ورزیوں پر ای چالان سسٹم کا افتتاح کردیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شہر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی روک تھام اور ٹریفک نظام میں شفافیت لانے کے لیے جدید ای چالان سسٹم کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں ٹریفک نظم و ضبط کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ رکشے، موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں سب ہی کسی نہ کسی طرح قانون شکنی میں ملوث ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ شہری نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے، اور ای چالان سسٹم اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ ان کے مطابق اب ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں خودکار کیمروں کے ذریعے ریکارڈ کی جائیں گی، جس سے انسانی مداخلت اور جانبداری کے امکانات ختم ہو جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت شہر میں جدید نگرانی کے 12 ہزار کیمرے نصب کیے جائیں گے، جنہیں مرحلہ وار پورے سندھ میں وسعت دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ شہری اگر کسی ای چالان پر وضاحت یا اعتراض کرنا چاہیں تو وہ قریبی ٹریک سینٹر سے رجوع کر سکتے ہیں، جہاں عوامی سہولت کے لیے ہیلپ ڈیسک قائم کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹریک سسٹم سندھ حکومت کا ڈیجیٹل شفافیت کی جانب ایک بڑا قدم ہے، جو شہریوں کی خدمت اور ان کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔
مراد علی شاہ نے مزید ہدایت کی کہ سڑکوں پر واضح سائن بورڈز لگائے جائیں تاکہ عوام کو قوانین سے مکمل آگاہی ہو۔ انہوں نے کہا کہ چالان کی رقم سے حاصل ہونے والے 15 فیصد کو عوامی فلاحی منصوبوں پر خرچ کیا جائے، جبکہ غلط یا ناجائز چالان کرنے والوں سے 30 فیصد جرمانہ وصول کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔