رکن کونسل شیخ احمد نوری مجلس علماء مکتب اہلبیت گلگت بلتستان کے صدر منتخب
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
نو منتخب صدر و ممبر جی بی کونسل علامہ شیخ احمد علی نوری نے اپنے خطاب میں تمام شرکاء اجلاس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ حضرات نے مجھ پر جو ذمہ داری عائد کی ہے اسے دیانتداری اور اخلاص کے ساتھ نبھانے کی بھرپور کوشش کروں گا۔ اسلام ٹائمز۔ معروف عالم دین و ممبر جی بی کونسل علامہ شیخ احمد علی نوری بھاری اکثریت سے مجلس علماء مکتب اہل بیت گلگت بلتستان کے صوبائی صدر بن گئے۔ اس موقع پر تنظیم سے وابستہ بڑی تعداد میں علماء کرام نے شرکت کی اور اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ انتخاب کا عمل باقاعدہ جمہوریہ انداز میں مکمل ہوا، مرکزی نائب صدر مجلس علماء مکتب اھلبیت پاکستان علامہ اقبال بہشتی نے اپنے خطاب میں تنظیم کے اہداف اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سب پر لازم ہے کہ دین اسلام کی سربلندی کے لیے اپنے فرائض منصبی پوری ذمہ داری کے ساتھ انجام دے۔مجلس علمائے مکتب اہل بیت کا پلیٹ فارم ملک بھر کے علماء کو ایک دوسرے سے جوڑنے اور مشترکہ مقاصد کے لیے متحد کرنے کا ذریعہ ہے۔ نو منتخب صدر و ممبر جی بی کونسل علامہ شیخ احمد علی نوری نے اپنے خطاب میں تمام شرکاء اجلاس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ حضرات نے مجھ پر جو ذمہ داری عائد کی ہے اسے دیانتداری اور اخلاص کے ساتھ نبھانے کی بھرپور کوشش کروں گا۔ تقریب سے امام جمعہ والجماعت حسین آباد آغا سید مظاہر حسین الموسوی نے بھی خطاب کیا جبکہ تقریب کی نظامت کے فرائض شیخ ذوالفقار عزیزی نے انجام دئیے۔ آخر میں مرکزی نائب صدر مجلس علماء مکتب اہل بیت پاکستان علامہ اقبال بہشتی نے نو منتخب صدر علامہ شیخ احمد علی نوری سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ شیخ احمد علی نوری مجلس علماء مکتب
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔