Islam Times:
2026-06-03@01:07:15 GMT

تکفیری ٹولہ آئی ایس او پاکستان سے خوفزدہ کیوں؟

اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT

تکفیری ٹولہ آئی ایس او پاکستان سے خوفزدہ کیوں؟

اسلام ٹائمز: آئی ایس او پاکستان نے اپنے قیام 22 مئی 1972ء سے آج تک ان 53 سالوں میں ہزاروں جوانوں کو تعلیم و تربیت دے کر قوم کے سپرد کیا ہے۔ یہ جوان مجالس میں علم کی شمعیں روشن کرتے ہیں، منبروں پر فہم و شعور کی بات کرتے ہیں اور میدانِ عمل میں عشقِ ولایت کے پرچم تلے اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔ آج جب ہم اس تنظیم کی تاریخ پر نگاہ ڈالتے ہیں تو فخر ہوتا ہے کہ ہم اس علم و عمل کا حصہ رہے۔ ان تمام بزرگان کو سلام پیش کرتے ہیں، جو اس کارواں کے قافلہ سالار تھے اور ان شہداء کو خراج عقیدت، جنہوں نے اس قافلے کی راہ کو اپنے خون سے روشن کیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ: "بڑھتے رہیں یوں ہی قدم، حی علیٰ خیر العمل۔" تحریر: محمد سعید شگری

اس تحریر کے متن میں موجود تصویریں ہمارے طالب علمی کے دور کی ہیں، جہاں جامعہ کراچی میں مختلف پروگرامات کے دوران شیعہ سنی اتحاد و اتفاق دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ تکفیری ٹولہ ان پروگراموں کی وجہ سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ اس تنظیم کا نصب العین نوجوانوں کو محمد و آل محمد (ع) کے راستے سے آگاہ کرتے ہوئے مملکت عزیز پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کا محافظ بنانا ہے۔ اسی تکفیری گروہ نے جب پاکستان میں شیعہ کافر کا نعرہ بلند کرکے اہلسنت بھائیوں کے دلوں میں زہر ڈالنا شروع کیا، تب انہی جوانوں نے مجتہدین عظام کے فرامین پر عمل کرتے ہوئے اتحاد و یکجہتی کے لئے نہ صرف ہاتھ آگے بڑھایا بلکہ عملی طور پر میلاد کے جلوسوں میں سبیل لگانے سے لیکر سیلاب کے وقت بغیر مسلک و مذہب دیکھے یونیورسٹیوں میں متحدہ طلبہ محاذ کو فعال بنانے جیسے پروگرامات ترتیب دیئے۔ اس لئے کہ پاکستان فرقہ وارانہ جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ آیت اللہ سیستانی کے اس قول کو پروان چڑھایا، جس میں آپ نے فرمایا "اہل سنت ہمارا بھائی نہیں بلکہ ہماری جان ہیں۔ "رہبر معظم نے فرمایا، اہل سنت کے مقدسات کی توہین حرام ہے۔" یوں اس ملک میں تکفیری فکر کو منہ کی کھانا پڑی۔ اب پاکستان کے عوام سمجھدار ہوچکے ہیں۔ اب کسی سازش کا شکار نہیں ہونگے۔ الحمداللہ پاکستانی شیعہ اور سنی نے ملکر ان وطن دشمن عناصر کو شکست دے دی ہے۔

آئی ایس او پاکستان
امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان، اتحاد بین المسلمین کی علمبردار ہے، جو شیعہ اور سنی طلبہ کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کے لیے کام کرتی ہے۔ یہ تنظیم 22 مئی 1972ء کو قائم کی گئی تھی اور اس نے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ شیعہ قیادت کی مضبوطی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
آئی ایس او پاکستان کے اہم مقاصد میں شامل ہیں¹ ²:
اتحاد بین المسلمین: شیعہ اور سنی طلبہ کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا اور ان کے درمیان بھائی چارے کو فروغ دینا۔
تعلیم و تربیت: نوجوانوں کو تعلیم و تربیت فراہم کرنا اور ان کو قوم کے لیے تیار کرنا۔
قومی جدوجہد: قومی جدوجہد میں حصہ لینا اور ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرنا۔
خدمات: مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینا، جیسے کہ امامیہ اسکاؤٹس، امامیہ بلڈ بینک اور امامیہ بک بینک۔

گذشتہ نصف صدی کے دوران آئی ایس او پاکستان نے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ شیعہ قیادت کی مضبوطی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ تنظیم نے نہ صرف سیاسی میدان میں ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کی بلکہ قیادت کا دست و بازو بن کر اہم قومی جدوجہد میں حصہ لیا۔ جولائی 1980ء میں علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم کی قیادت میں زکواۃ آرڈیننس کے خلاف تحریک میں آئی ایس او نے نمایاں کردار ادا کیا۔ اسی دوران عراق میں شہید باقر الصدر کے قتل پر پاکستان میں آئی ایس او کی جانب سے احتجاجات ہوئے۔ 5 جولائی 1980ء کو "نفاذ فقہ جعفریہ کنونشن" کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید اور نوجوانانِ امامیہ نے فعال شرکت کی۔ بعد ازاں، قائد شہید علامہ سید عارف الحسینی کے دور میں "قرآن و سنت کانفرنسز" کو کامیاب بنانے میں بھی آئی ایس او کا کردار ناقابلِ فراموش رہا۔

آئی ایس او پاکستان نے اپنے قیام 22 مئی 1972ء سے آج تک ان 53 سالوں میں ہزاروں جوانوں کو تعلیم و تربیت دے کر قوم کے سپرد کیا ہے۔ یہ جوان مجالس میں علم کی شمعیں روشن کرتے ہیں، منبروں پر فہم و شعور کی بات کرتے ہیں اور میدانِ عمل میں عشقِ ولایت کے پرچم تلے اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔ آج جب ہم اس تنظیم کی تاریخ پر نگاہ ڈالتے ہیں تو فخر ہوتا ہے کہ ہم اس علم و عمل کا حصہ رہے۔ ان تمام بزرگان کو سلام پیش کرتے ہیں، جو اس کارواں کے قافلہ سالار تھے اور ان شہداء کو خراج عقیدت، جنہوں نے اس قافلے کی راہ کو اپنے خون سے روشن کیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ: "بڑھتے رہیں یوں ہی قدم، حی علیٰ خیر العمل۔"
تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں
چارہ گر دردمندوں کے بنتے ہو کیوں
تم نہیں چارہ گر کوئی مانے مگر
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: آئی ایس او پاکستان تعلیم و تربیت کرتے ہیں اور ان

پڑھیں:

علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی

اسلام ٹائمز: موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔ تحریر: عبداللہ البحرانی

مملکتِ بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کے اقدامات میں نمایاں شدت آ گئی ہے، جو وسیع پیمانے پر گرفتاریوں، شہریت کی منسوخی اور مذہبی شعائر پر پابندیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ مرآۃ البحرین کے حوالے سے عبداللہ البحرانی نے لکھا کہ یہ پیش رفت ایک ایسے حساس علاقائی ماحول میں رونما ہو رہی ہے جہاں داخلی سلامتی کے خدشات بدلتے ہوئے علاقائی اتحادوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، خصوصاً اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد۔ اس رپورٹ کا مقصد سرکاری بیانات، انسانی حقوق کے اداروں کے ردِعمل اور سرکاری مؤقف کے تقابلی جائزے کے ذریعے اس مہم کے سیاسی اور قانونی پہلوؤں کا تجزیہ کرنا ہے۔

تاریخی اور سیاسی پس منظر:
انہوں نے لکھا کہ بحرین میں حکومت اور شیعہ اکثریتی آبادی، جو ملک کی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے، ان کے درمیان کشیدگی ایک طویل عرصے سے موجود ہے۔ اس کشیدگی کی جڑیں سیاسی نمائندگی، اصلاحات کے مطالبات اور امتیازی سلوک کے الزامات میں پیوست ہیں۔ یہ تناؤ خاص طور پر 2011ء کے عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد بڑھ گیا، جب احتجاجی تحریک کو سخت سکیورٹی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا اور شیعہ کارکنان اور علمائے دین کو نمایاں طور پر نشانہ بنایا گیا۔

حالیہ پیش رفت، مئی 2026 کی مہم:
البحرانی کے مطابق مئی 2026 کے آغاز میں بحرین کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرنے والے بحرینی شہریوں کے ایک گروہ سے متعلق کارروائی کی گئی ہے اور 41 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان افراد پر جارحیت کا جواب دینے کے حوالے سے ایران کے مؤقف سے ہمدردی کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ اعلان بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے اپریل 2026 کے اواخر میں دیے گئے اس بیان کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بحرینی شہریت کوئی ایسا کاغذ نہیں جو محض عطا کر دیا جائے، بلکہ یہ ایک عہد و پیمان ہے، اور جو اس عہد کو توڑے گا وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے حق کو ساقط کر دے گا۔ اس بیان کو شہریت کی منسوخی کی دھمکی کے طور پر دیکھا گیا۔ بعد ازاں مئی 2026 کے آغاز میں حکومت نے 69 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے جاری کیے، جن میں بعض کے اہلِ خانہ بھی شامل تھے۔ اسی طرح پانچ افراد کو عمر قید اور مزید 24 افراد کو پانچ سے دس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان تمام افراد پر ایران کے ردِعمل کی حمایت یا تائید سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے۔

مذہبی آزادیوں اور انسانی حقوق پر پابندیاں:
البحرانی کے مطابق یہ مہم صرف سکیورٹی پہلو تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کو بھی متاثر کیا ہے۔ تنظیم Americans for Democracy & Human Rights in Bahrain (ADHRB) نے مارچ 2026 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے دوران بحرین میں شیعہ مذہبی رسومات پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی مذمت کی۔ تنظیم نے کعبہ کے ماڈل اور دیگر مذہبی علامات کو ہٹانے، نیز المعامیر گاؤں میں مذہبی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کی طلبی اور گرفتاریوں کی نشاندہی کی۔ انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق یہ اقدامات کوئی نئی بات نہیں بلکہ 2011ء سے شیعہ اکثریتی آبادی کے حقوق پر جاری دباؤ کا تسلسل ہیں، جن میں مساجد کی بندش، نمازِ جمعہ پر پابندیاں اور مذہبی مناسبات کے انعقاد میں رکاوٹیں شامل ہیں۔

سیاسی اور قانونی پہلو:
البحرانی کا کہنا ہے کہ موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔

علاقائی حالات سے فائدہ اٹھانے کی عوام دشمن پالیسی:
البحرانی نے مزید لکھا کہ یہ داخلی مہم خطے میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل ایک جانب اور ایران دوسری جانب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، جو فروری 2026 میں مسلح تصادم تک جا پہنچی۔ ان کے مطابق بحرینی حکومت اس ماحول کو داخلی سکیورٹی کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور ایران کے حامی سمجھے جانے والے کسی بھی عوامی یا مذہبی رجحان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل ایک نئی علاقائی سکیورٹی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کی بنیاد اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی، ایران کے ساتھ سیاسی و سکیورٹی مخالفت اور اس مؤقف سے اختلاف رکھنے والی عوامی یا مذہبی سرگرمیوں کو جرم قرار دینے پر رکھی گئی ہے۔

چند تجاویز:
البحرانی کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے یا بیرونی فریقوں سے تعلقات کے نام پر بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں، خصوصاً مذہبی آزادی، آزادیِ عقیدہ اور حقِ شہریت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مذہبی شناخت کو سکیورٹی خطرے سے جوڑنے کا عمل خوف اور عدم استحکام کی فضا پیدا کرتا ہے اور بحرینی معاشرے کے سماجی تانے بانے کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ البحرانی نے سفارشات پیش کی ہیں کہ من مانی گرفتاریوں اور شہریت کی منسوخی کا فوری خاتمہ کیا جائے، جن شہریوں کی شہریت منسوخ کی گئی ہے، انہیں ان کا حق واپس دیا جائے، مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کا مکمل احترام کیا جائے، شیعہ مذہبی شعائر اور رسومات پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، بحرین اپنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں اور ذمہ داریوں کی پابندی کرے، معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت سے ایک جامع قومی مکالمہ شروع کیا جائے تاکہ کشیدگی کے اسباب کا جائزہ لے کر قومی مفاہمت کی راہ ہموار کی جا سکے، مضمون کے اختتام پر البحرانی نے زور دیا کہ پائیدار استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے جامع اور بامعنی قومی مذاکرات ناگزیر ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟