اسرائیل کی جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی، غزہ پر وحشیانہ بمباری میں 31 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیل نے غزہ پر دوبارہ تباہ کن بمباری شروع کردی، رفح میں مبینہ فائرنگ کو جواز بنا کر مختلف علاقوں پر حملوں میں 31 فلسطینی شہید ہوگئے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیل نے ایک بار پھر تباہ کن بمباری کا سلسلہ شروع کردیا، رفح میں فائرنگ کے مبینہ واقعے کو جواز بنا کر صیہونی فوج نے دیرالبلح، خان یونس، رفح اور نصیرات کیمپ سمیت مختلف علاقوں پر اندھا دھند فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں 11 بچوں سمیت کم از کم 31 فلسطینی شہید اور پچاس سے زائد شدید زخمی ہوگئے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو کے حکم پر فوج نے غزہ میں وسیع پیمانے پر کارروائیوں کا آغاز کیا۔ جنگی طیاروں نے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا، جب کہ الشفا اسپتال کے اطراف بھی بم برسائے گئے۔ صیہونی افواج نے “یلو لائن” سے آگے کے متعدد علاقوں پر دوبارہ قبضے کی کوششیں تیز کردی ہیں، جس سے شہری آبادی ایک بار پھر خوف و دہشت میں مبتلا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق حماس نے اسرائیلی جارحیت کے بعد یرغمالی کی لاش کی واپسی مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تنظیم نے مزید دو یرغمالیوں کی لاشیں بھی برآمد کرلی ہیں۔
ترکیہ نے اسرائیلی حملوں میں معصوم شہریوں کی ہلاکتوں پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ترک وزارتِ خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو فی الفور بمباری روکنے پر مجبور کیا جائے۔
دوسری جانب ٹوکیو سے سیئول روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل کو حماس کے خلاف جوابی کارروائی کا حق حاصل ہے، البتہ اگر اسرائیلی رویہ حد سے تجاوز کرے تو اسے “ختم کردیا جانا چاہیے”۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ حماس مشرقِ وسطیٰ کے امن عمل کا ایک “چھوٹا مگر پیچیدہ” حصہ ہے، جسے قابو میں رکھنا ضروری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔