غزہ میں قیامِ امن فورس بھیجنے کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا: خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان کے غزہ میں قیامِ امن فورس بھیجنے کے حوالے سے ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ فلسطین کا مسئلہ 1967 سے میرے دل کے قریب ہے۔ میرے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں کہ میں عملی طور پر ان کی مدد کر سکوں لیکن ان سے محبت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اس مسئلے میں شرکت کرنا چاہتا ہے یا شرکت کرنا پڑے تو میں سمجھتا ہوں یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنی پوری طاقت استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اگر چاہیں تو تورا بورا کی شکست کے مناظر دہرائیں گے
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک اچھا موقع ہے جس کو پاکستان کو حاصل کرنا چاہیے۔ مگر ابھی تک یہ چیز فائنل نہیں ہوئی کہ پاکستان غزہ میں قیامِ امن فورس بھیجے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں قیامِ امن فورس بھیجنے کی بات جب فائنل ہو جائے گی تب پارلیمنٹ اور دوسرے اداروں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: غزہ میں قیام وزیر دفاع امن فورس کا کہنا
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔