Daily Sub News:
2026-07-24@05:06:02 GMT

اصول بنا لیا ہے کسی کی پگڑی نہیں اچھالیں گے: چیئرمین نیب

اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT

اصول بنا لیا ہے کسی کی پگڑی نہیں اچھالیں گے: چیئرمین نیب

اصول بنا لیا ہے کسی کی پگڑی نہیں اچھالیں گے: چیئرمین نیب WhatsAppFacebookTwitter 0 29 October, 2025 سب نیوز

اسلام آباد: (آئی پی ایس) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا ہے کہ اصول بنا لیا ہے کہ کسی کی پگڑی نہیں اچھالیں گے۔

چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کا اسلام آباد کے سینئر صحافیوں کے ساتھ پہلا باقاعدہ مکالمہ ہوا، اس ملاقات میں ڈپٹی چیئرمین نیب جسٹس ( ر) سہیل ناصر، ڈی جی نیب راولپنڈی، اسلام آباد وقار چوہان، ڈی جی آپریشنز نیب امجد اولکھ سمیت سینئر حکام موجود تھے۔

سوال و جواب کی طویل نشست میں چیئرمین نیب نے ادارے کی اڑھائی سالہ کارکردگی، قومی دولت کی لوٹ مار میں ملوث با اثر شخصیات کی نشاندہی، ادارہ جاتی کرپشن روکنے، بہتر طرز حکمرانی سمیت دیگر عوامی اہمیت کے تمام امو ر پر کھل کر مکالمہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ نیب نے اڑھائی سال میں 8 ہزار 397 ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری کی، 23 سال کے دوران 883 ارب روپے ریکور کئے، دنیا کے کسی ادارے کا ریکوری ریٹ نیب سے بہتر نہیں ہے، نیب کو مکمل پیپر لیس بنا دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے بیان پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، کسی وزیر یا پارلیمینٹرین کو طلب نہیں کرتے، سپیکر آفس میں خصوصی ڈیسک بنایا ہے، چیف سیکرٹریز اور تمام چیمبرز میں بھی سہولت ڈیسک بنائے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا کہ سرکاری افسروں، کاروباری افراد کیخلاف شکایات پر متعلقہ ڈیسک کے جواب کے بعد کارروائی ہوتی ہے، اخلاقیات کے علمبردار کئی ملک ہمیں لیکچر ضرور دیتے ہیں، تعاون نہیں کرتے منی لانڈرنگ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ اڑھائی برسوں میں ہم نے نیب کے ایس او پیز بدلے، پارلیمان نے نیب ایکٹ میں 2 بڑی ترامیم کی منظوری دی ، ہمارا مقصد خوف و ہراس پیدا کرنا نہیں ان لوگوں کو پکڑنا ہے جو قومی اثاثوں کی لوٹ مار میں ملوث ہیں، پارلیمنٹ نے قانون میں ترمیم کی تھی کہ نیب 50 کروڑ روپے سے زائد کے قومی غبن میں ملوث افراد کو پکڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ فراڈ کے سہولت کار افسران کیخلاف کارروائی کیلئے متعلقہ حکومتوں کو کیس بنا کر دیا، فرضی اور بے نامی شکایات کی حوصلہ شکنی سے غیرضروری کیسز کا بوجھ کم ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رئیل اسٹیٹ کے کاروبارمیں فروخت کنندہ اور خریدار کے علاوہ ریگولیٹر بھی شامل ہوگا، فائلوں کا کاروبار بند کر دیا، اب صرف حقیقی پلاٹ کی خریدوفروخت ہو سکےگی،کے پی میں بی آر ٹی کرپشن کا کیس ہماری کوششوں سے عالمی عدالت سے واپس ہوا، اس سے قومی خزانے کو 168 ارب روپے کی بچت ہوئی، کرپشن کے پیسے سے جائیدادیں خریدنے کے سہولت کار ملک کے اصل مجرم ہیں، ہمیں شفافیت کا لیکچر دینے والے خود کرپشن کے سرپرست بنےہیں۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ منی لانڈرنگ کی سہولت کاری کرپشن کی سب سے بھیانک صورت ہے، آف شور کمپنیاں اور سیاسی پناہ کی آڑ کرپٹ عناصر کیخلاف کارروائی میں رکاوٹ ہیں، باہمی قانون معاونت کے بجائے مقامی قوانین کا سہارا لے کر کرپٹ عناصر کو بچا لیا جاتا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کا مزید کہنا تھا کہ پلی بارگین میں کم رقم وصول کرنے کا تاثر درست نہیں، زیادہ تر کیسز میں اصل سے زیادہ رقم وصول کی، پلی بارگین پر نیب کا حصہ وصول کرنے کا تاثر یکسر غلط ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپنجاب میں سموگ وبال جان بن گئی، لاہور آلودہ ترین شہروں میں آج بھی سر فہرست پنجاب میں سموگ وبال جان بن گئی، لاہور آلودہ ترین شہروں میں آج بھی سر فہرست پنجاب میں عمران خان کے خلاف کتنے مقدمات درج ہیں؟ سپریم کرٹ؛ شبلی فراز کی نشست پر سینیٹ الیکشن کا شیڈول معطل کرنے کی استدعا مسترد عہدہ چھوڑنے سے قبل گنڈاپور نے صوبے میں پی ٹی آئی کیخلاف 9 مئی کا باب بند کردیا ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کی پیشکش کر دی کور کمانڈر سے ملاقات کا سوال مجھ سے نہیں وزیراعلی کے پی سے کریں، بیرسٹر گوہر TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: لیفٹیننٹ جنرل چیئرمین نیب کہنا تھا کہ نے کہا

پڑھیں:

سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد:

عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف