Daily Mumtaz:
2026-06-02@23:26:05 GMT

اصول بنا لیا ہے کسی کی پگڑی نہیں اچھالیں گے: چیئرمین نیب

اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT

اصول بنا لیا ہے کسی کی پگڑی نہیں اچھالیں گے: چیئرمین نیب

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا ہے کہ اصول بنا لیا ہے کہ کسی کی پگڑی نہیں اچھالیں گے۔

چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کا اسلام آباد کے سینئر صحافیوں کے ساتھ پہلا باقاعدہ مکالمہ ہوا، اس ملاقات میں ڈپٹی چیئرمین نیب جسٹس ( ر) سہیل ناصر، ڈی جی نیب راولپنڈی، اسلام آباد وقار چوہان، ڈی جی آپریشنز نیب امجد اولکھ سمیت سینئر حکام موجود تھے۔

سوال و جواب کی طویل نشست میں چیئرمین نیب نے ادارے کی اڑھائی سالہ کارکردگی، قومی دولت کی لوٹ مار میں ملوث با اثر شخصیات کی نشاندہی، ادارہ جاتی کرپشن روکنے، بہتر طرز حکمرانی سمیت دیگر عوامی اہمیت کے تمام امو ر پر کھل کر مکالمہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ نیب نے اڑھائی سال میں 8 ہزار 397 ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری کی، 23 سال کے دوران 883 ارب روپے ریکور کئے، دنیا کے کسی ادارے کا ریکوری ریٹ نیب سے بہتر نہیں ہے، نیب کو مکمل پیپر لیس بنا دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے بیان پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، کسی وزیر یا پارلیمینٹرین کو طلب نہیں کرتے، سپیکر آفس میں خصوصی ڈیسک بنایا ہے، چیف سیکرٹریز اور تمام چیمبرز میں بھی سہولت ڈیسک بنائے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا کہ سرکاری افسروں، کاروباری افراد کیخلاف شکایات پر متعلقہ ڈیسک کے جواب کے بعد کارروائی ہوتی ہے، اخلاقیات کے علمبردار کئی ملک ہمیں لیکچر ضرور دیتے ہیں، تعاون نہیں کرتے منی لانڈرنگ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ اڑھائی برسوں میں ہم نے نیب کے ایس او پیز بدلے، پارلیمان نے نیب ایکٹ میں 2 بڑی ترامیم کی منظوری دی ، ہمارا مقصد خوف و ہراس پیدا کرنا نہیں ان لوگوں کو پکڑنا ہے جو قومی اثاثوں کی لوٹ مار میں ملوث ہیں، پارلیمنٹ نے قانون میں ترمیم کی تھی کہ نیب 50 کروڑ روپے سے زائد کے قومی غبن میں ملوث افراد کو پکڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ فراڈ کے سہولت کار افسران کیخلاف کارروائی کیلئے متعلقہ حکومتوں کو کیس بنا کر دیا، فرضی اور بے نامی شکایات کی حوصلہ شکنی سے غیرضروری کیسز کا بوجھ کم ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رئیل اسٹیٹ کے کاروبارمیں فروخت کنندہ اور خریدار کے علاوہ ریگولیٹر بھی شامل ہوگا، فائلوں کا کاروبار بند کر دیا، اب صرف حقیقی پلاٹ کی خریدوفروخت ہو سکےگی،کے پی میں بی آر ٹی کرپشن کا کیس ہماری کوششوں سے عالمی عدالت سے واپس ہوا، اس سے قومی خزانے کو 168 ارب روپے کی بچت ہوئی، کرپشن کے پیسے سے جائیدادیں خریدنے کے سہولت کار ملک کے اصل مجرم ہیں، ہمیں شفافیت کا لیکچر دینے والے خود کرپشن کے سرپرست بنےہیں۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ منی لانڈرنگ کی سہولت کاری کرپشن کی سب سے بھیانک صورت ہے، آف شور کمپنیاں اور سیاسی پناہ کی آڑ کرپٹ عناصر کیخلاف کارروائی میں رکاوٹ ہیں، باہمی قانون معاونت کے بجائے مقامی قوانین کا سہارا لے کر کرپٹ عناصر کو بچا لیا جاتا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کا مزید کہنا تھا کہ پلی بارگین میں کم رقم وصول کرنے کا تاثر درست نہیں، زیادہ تر کیسز میں اصل سے زیادہ رقم وصول کی، پلی بارگین پر نیب کا حصہ وصول کرنے کا تاثر یکسر غلط ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: لیفٹیننٹ جنرل چیئرمین نیب کہنا تھا کہ نے کہا

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو