ٹی ایل پی کے 600 بندے ہلاک ہونے کا دعوی کرنے والے ذرا لاشیں تو دکھادیں، وزیراعلی پنجاب WhatsAppFacebookTwitter 0 29 October, 2025 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ ٹی ایل پی کے 600 بندے ہلاک ہونے کا دعوی کیا جارہا ہے ذرا لاشیں تو دکھادیں، کسی نے تو ویڈیو بنائی ہوگی، معلوم تو ہو کہ لاشیں گئی کہاں؟یہ بات انہوں ںے وزیراعلی ہاس میں اتحاد بین المسلمین کمیٹی کے علما کرام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے علما کو مخاطب کیا کہ ایک مذہبی جماعت کے خلاف کارروائی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ مذہبی جماعتوں کو بھی سیاست کرنے کا حق ہے مگر مذہب کی آڑ میں تشدد کرنا، راستے بند کردینا، املاک جلانا، کسی کی جان لینا، ہتھیار اٹھالینا قابل قبول نہیں۔

انہوں ںے کہا کہ پولیس افسران یہاں موجود ہیں، ہم سب علما کی خدمت میں حاضر رہتے ہیں، حتی الامکان کوشش کرتے ہیں کہ عوام کی جان و مال عزت محفوظ رہے، ماضی میں سیاسی مقاصد کے لیے کچھ جماعتوں کو بنایا گیا، انہیں دوسروں کو نیچا دکھانے کے لیے لایا گیا، معاشرے میں بہتری کے لیے علما کا بڑا کردار ہے، ہم سب متحد ہیں اور مذہبی جماعتیں بھی ہماری ہیں مگر مذہب کی آڑ میں تشدد کی اجازت نہیں دے سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ میرا علم کم ہے مگر یہ ضرور جانتی ہوں کہ کوئی بھی شخص رحمت العالمینۖ کے نام پر شرانگیزی کرے یہ درست نہیں، اس کے ہاتھ میں بندوقیں ہوں، ہاتھ میں ڈنڈے ہوں کیلوں والے، وہ قانون نافذ کرنے والوں کو ڈنڈے مار رہا ہوں ہڈیاں توڑ رہا ہو تو حکومت کیا کرے گی؟ اس جماعت کے لیڈر نے اپنے کارکنوں کو نہتے لوگوں پر حملے کے لیے اکسایا، مذہبی جماعت کی قیادت کارکنان کو حکم دے رہی ہے کہ راستہ بند کردو، پولیس والوں کی ہڈیاں توڑ دو، یہ کون سا مذہب ہے۔

وزیراعلی نے کہا کہ میں بطور حکمران علما سے رہنمائی چاہتی ہوں کہ اگر کوئی جتھہ ہتھیاروں سے لیس ہوکر سڑکوں پر آجائے اور اپنی مرضی کرنے کی بات کرے ورنہ راستہ بند کرنے اور گولی چلانے کی بات کرے تو کیا وہ ہم سب کی اور دین کی بدنامی کا باعث نہیں؟ لبیک کتنا خوبصورت لفظ ہے جو ہم حج میں ادا کرتے ہیں کہ رب میں حاضر ہوں اور یہاں پاکستان میں رہتے ہوئے اس مقدس لفظ کا نام آتے ہی ایک مذہبی جماعت کا نام سامنے آتا ہے۔مریم نواز نے کہا کہ مذہبی جماعت کو بھی سیاست کرنے کا حق ہے مگر بے گناہوں کو نشانہ بنانے اور راستے بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اتنا بڑا ہنگامہ ہوا میں نے ایک بار بھی شرپسند جماعت کے منہ سے ایک بار بھی فلسطین کے لیے کوئی بات نہیں سنی، بس یہی سنا کہ ماردو، جلادو، کیا آپ لوگ ایسے لوگوں کو عاشق رسولۖ کہیں گے؟ صفائی کی گاڑیوں کو آگ لگائی گئی جو لوگوں کے خون پسینے کی کمائی تھی، راستے بند ہونے سے لوگوں کو بہت مشکل پیش آئی۔

وزیراعلی کا کہنا تھا کہ علما نے ہمیں کہا کہ تحمل کا مظاہرہ کریں، ہم نے ہر بار تحمل کا مظاہرہ کیا مگر اس جماعت نے لوگوں کے ذہنوں کو زہر آلود کیا، اس جماعت نے عشق رسولۖ کے برعکس کام کیا، اس جماعت کے دفاتر سے کیش کے بنڈل کے بنڈل نکلے، دفاتر سے وہ اسلحہ نکلا جو سیکیورٹی اداروں کے پاس بھی نہیں، میں تو حیران ہوں کہ ٹی ایل پی کے دفاتر اسے اتنی بڑی مقدار میں اسلحہ کیوں نکلا؟ وہ کس لیے تھا؟ یہ اسلحہ ریاست کے خلاف استعمال کرنے کے لیے تھا۔انہوں نے کہا کہ علما اس عمل کی مذمت کرتے ہیں مگر صرف مذمت کافی نہیں لوگوں کو وضاحت دینی ہوگی۔

انہوں ںے کہا کہ پی ٹی آئی کی مثال دیتی ہوں وہ جلسے کرتے رہے کسی نے نہیں روکا مگر جب انہوں ںے ریاست پر حملے کیے تو اس دن سے ان کا زوال شروع ہوگیا پی ٹی آئی والے اس کے ذمہ دار خود ہیں وہ اپنے زوال کا کسی پر الزام عائد نہیں کرسکتے، یہ وقت ہم پر بھی آیا مگر ہم نے کبھی ہتھیار نہیں اٹھایا، بھارت نے جب حملہ کیا تو اسی فوج نے ملک کو فتح دلائی جس پر پی ٹی آئی نے حملہ کیا تھا۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ جب فتنہ سر اٹھاتا ہے تو قوموں کی تنزلی شروع ہوجاتی ہے ہمیں مذہبی جماعتوں میں سے ایسے جتھوں کو علیحدہ کرنا ہے، دین کی آڑ میں مذموم مقاصد ناقابل قبول ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجرم چاہے مرد ہو یا عورت، مجرم مجرم ہوتا ہے، اس جماعت نے مدرسے میں خواتین کو اسلحہ چھپانے اور دہشت گردوں کی طرح تربیت دی، جو جرم کرے گا اسے سزا ملے چاہے مرد ہو یا عورت، مخالف کی بہن بیٹی کے ساتھ بھی ظلم کی قائل نہیں ہوں، سیکیورٹی اداروں کو حکم دیا ہے کہ اگر کوئی بے گناہ اٹھالیا گیا ہے تو اسے فورا گھر واپس چھوڑا جائے کوئی زیادتی نہ کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس ہنگامے میں 600 لوگوں کی ہلاکت کا کہا گیا، اڈیالہ میں بیٹھے ہوئے شخص نے وہاں سے ٹویٹ کیا کہ 600 لوگ ہلاک ہوگئے، وہ وہاں سے بیٹھ کر مذہب کو استعمال کررہا ہے، اتنے لوگ مارے گئے اور زخمی ہوئے اتنی لاشیں کہیں تو ہوں گی؟ اتنے زخمی ہوں گے ان کا علاج کہیں تو ہوا ہوگا؟ اتنے قتل ہوئے تو سب کے پاس موبائل فون ہے تو لاشوں کی ویڈیو کسی نے نہیں بنائی؟ کوئی ثبوت لے آئے کہ 600 بندے مارے گئے، کہاں ہیں وہ 600 لاشیں؟ مجھے ثبوت دیں تاکہ میں اپنی پولیس کو پکڑوں، لاشیں مجھے بھی دکھائیں، مفتی منیب کے کہنے پر ایک بار پر فہرست جاری کریں گے کہ لبیک والوں کے کتنے بندے زخمی ہوئے مگر یہ ماننے کو تیار نہیں کہ چھ سو بندے مارے گئے، اتنی لاشوں سے تو پہاڑ بن جائے گا۔

وزیراعلی نے کہا کہ ٹی ایل پی سے مساجد اور مدرسے لے کر حکومت نے اپنے پاس نہیں رکھے آپ لوگوں کے حوالے کیا تاکہ انہیں درست سمت چلایا جاسکے، ہم پنجاب کے 65 ہزار اماموں کے لیے دس ہزار روپے وظیفہ مقرر کررہے ہیں یہ رقم کم ہے مگر نہ ہونے سے بہتر ہے، میرے والد نواز شریف نے کہا ہے یہ تھوڑا ہے اسے 25 ہزار روپے کریں۔

انہوں ںے کہا کہ لاڈ اسپیکر کے قوانین ہیں ان پر عمل کیا جائے جو صرف اذان اور جمعہ کے خطبات کے لیے ہیں۔

انہوں نے علما سے درخواست کی کہ وہ لوگوں کو اس ناسور سے علیحدہ کرنے میں حکومت پنجاب کا ساتھ دیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت میں سیکیورٹی خدشات، پاکستان ہاکی ٹیم جونیئر ورلڈکپ 2025 سے دستبردار بھارت میں سیکیورٹی خدشات، پاکستان ہاکی ٹیم جونیئر ورلڈکپ 2025 سے دستبردار ون ڈے رینکنگ: بابر اعظم کی چوتھی پوزیشن برقرار، رضوان کی ترقی الیکشن کمیشن کے پاس ریفرنس کے بغیر کسی سینیٹر کو نا اہل کرنے کا اختیار نہیں: بیرسٹر گوہر آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے میں اہم پیشرفت، شوگرملز کی وڈیو اینالیٹکس کے ذریعے مانیٹرنگ لازم قرار گورنر کے پی کا وزیراعلی سہیل آفریدی کو چھوٹی کابینہ تشکیل دینے کا مشورہ بدخشاں میں طالبان میں لڑائی، ملا ہیبت کا منحرف کمانڈر کو پکڑ کر قندھار لانے کا حکم TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ٹی ایل پی کے

پڑھیں:

ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے

بھارت میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران معروف کھلاڑی بھی طلبہ کے حق میں سامنے آ گئے ہیں۔ کرکٹ لیجنڈ سچن ٹنڈولکر، اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا، یوراج سنگھ، شیکھر دھون، محمد کیف، میرابائی چانو، ونیش پھوگاٹ اور منو بھاکر نے شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی نظامِ تعلیم کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مؤثر اصلاحات کی اپیل کی ہے۔

سچن ٹنڈولکر نے اپنے مرحوم والد جو پیشے کے اعتبار سے پروفیسر تھے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ناکامی قابلِ قبول ہے لیکن دھوکہ دہی نہیں۔ کبھی بھی شارٹ کٹ اختیار نہ کریں‘۔

یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی

انہوں نے مزید کہا کہ بطور معاشرہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسی اقدار کو فروغ دیں جہاں محنت کو نتائج پر ترجیح دی جائے۔ انہوں نے لکھا اگر معاشرہ محنت کے بجائے صرف نتائج کو اہمیت دے گا تو لوگ میرٹ کے بجائے شارٹ کٹس تلاش کریں گے۔ آج اگر طلبہ کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ ان کی محنت کا صلہ نہیں ملا تو یہ قابلِ فہم ہے۔ ہمیں مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں انہیں دوبارہ ایسا محسوس نہ ہو۔

سچن نے کہا کہ بھارت کے نوجوان خوابوں اور توانائی سے بھرپور ہیں اور والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، منتظمین اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ایسا ماحول قائم کیا جائے جہاں محنت کا صلہ ملے، دیانت داری کی حوصلہ افزائی ہو اور میرٹ کامیاب ہو۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں مودی حکومت کے خلاف بڑھتا احتجاج، سلمان خان بھی شامل ہوگئے

اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا نے بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔

انہوں نے لکھا کہ ’میں نے خود کو کبھی سیاسی شخصیت نہیں سمجھا لیکن میرا یقین ہے کہ کچھ معاملات ہم سب کے ہیں، چاہے ہمارے نظریات کچھ بھی ہوں۔ تعلیم انہی میں سے ایک ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ کسی قوم کی اصل طاقت صرف اس کی معیشت یا کامیابیوں میں نہیں بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو کتنے بہتر مواقع فراہم کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے ہاتھ کھڑے کردیے، ایران کو الٹی میٹم، کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج سے مودی پریشان، نواز شریف کی انوکھی خواہش

ان کے مطابق ایسا نظامِ تعلیم جو اعتماد پیدا کرے، میرٹ کو فروغ دے اور تجسس کی حوصلہ افزائی کرے کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔ ہمیں مل کر اپنے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانا چاہیے تاکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے امید، مواقع اور جدت کا ذریعہ بن سکے۔

اولمپک سلور میڈلسٹ میرابائی چانو نے بھی مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بہت سی اچھی چیزیں بھی ہو رہی ہیں لیکن کچھ افسوسناک واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ جب ہم ایسے واقعات دیکھتے یا سنتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ میں نے دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے بارے میں سنا ہے میرا خیال ہے کہ وہ درست کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج میں تقسیم، اہلکار مودی حکومت کے خلاف احتجاج کا حصہ بن گئے

سابق بھارتی آل راؤنڈر یوراج سنگھ نے اپنے پیغام میں کہا ہر بچے، ہر طالب علم، ہر عورت اور ہر مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پُرامن ماحول میں تعلیم حاصل کرے، محفوظ رہے اور اپنے خواب پورے کرے۔ آپ کی فلاح و بہبود ہی روشن بھارت کی بنیاد ہے۔ بات چیت کے ذریعے ہم بھارت کے مستقبل کے لیے قابلِ قبول حل تلاش کر سکتے ہیں۔

سابق اوپنر شکھر دھون نے بھی طلبہ کے جذبات کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خوابوں کو سمجھنا ضروری ہے، لیکن مشکل وقت میں صبر اور ملک کے اداروں اور حکومت پر اعتماد برقرار رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ میرا یقین ہے کہ ہر مسئلے کا حل صبر سے نکلتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں طلبا احتجاج نہیں، ہندتوا فاشسٹ سوچ کے خلاف بغاوت ہوئی ہے، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید

سابق کرکٹر محمد کیف نے کہا کہ ایک باپ ہونے کے ناطے مجھے یہ دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے کہ تعلیم کے نظام میں خامیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس طاقت استعمال کر رہی ہے۔ دہلی کی سڑکوں پر طلبہ پر لاٹھیاں برسنا بند ہونا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ اس مسئلے کا جلد حل نکلے گا۔

ریسلر ونیش پھوگاٹ نے احتجاجی مقام پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر کی تصاویر نے انہیں شدید صدمہ پہنچایا۔ انہوں نے کہا جب ملک کے طلبہ اپنے مستقبل، اپنے حقوق اور اپنے خوابوں کے لیے سڑکوں پر نکلے تو انہیں عزت کے بجائے خوف اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار ’ستلج ‘ کے بعد’دی انڈیا اسٹوری‘ سے بھی ڈرنے لگی، سبب کیا نکلا؟

انہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ ہر حال میں پرامن رہیں اور کہا آپ کی سب سے بڑی طاقت آپ کا صبر، نظم و ضبط اور پُرامن جدوجہد ہے۔ پیچھے مت ہٹیں، تاریخ ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہے۔

سب سے پہلے آواز بلند کرنے والے کھلاڑیوں میں اولمپک شوٹر منو بھاکر بھی شامل تھیں جنہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سیاست سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سیاست کا معاملہ نہیں بلکہ ہمارے ملک کے مستقبل کا سوال ہے۔ میں خود ایک طالبہ رہی ہوں اور ہم سب کبھی نہ کبھی طالب علم رہے ہیں۔ ہر بچے کو تعلیم، تحفظ اور زندگی میں مساوی مواقع ملنے چاہییں۔ یہ کوئی رعایت نہیں بلکہ بنیادی حقوق ہیں۔ جن طلبہ اور بچوں نے اپنی جانیں گنوائیں، وہی اس ملک کا مستقبل تھے۔ ان کے خواب، ان کی صلاحیتیں اور ان کا مستقبل محفوظ ہونا چاہیے تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈیا انڈیا احتجاج بھارتی کرکٹر سچن ٹنڈولکر کاکروچ جنتا پارٹی مودی

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان