عدالت سے کوئی امید نہیں،عمران خان
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
وزیراعلیٰ کے پی اپنی مرضی سے کابینہ بنائیں اور حجم چھوٹا رکھیں، علامہ راجہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کی تقرری کا نوٹی فکیشن جاری نہ ہونے پربانی پی ٹی آئی کا تشویش کا اظہار
احمد چھٹہ اور بلال اعجاز کو کس نے عہدوں سے اتارا؟ وہ میرے پرانے ساتھی ہیں، توہین عدالت فوری طور پر فائل کی جائیں اور تاریخ لیے بغیر ہائیکورٹ سے نہ اٹھیں، میڈیا سے گفتگو
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں نے کہا ہے کہ عمران خان نے وزیراعلیٰ کے پی کے لیے ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کابینہ بنائیں اور کابینہ کا حجم چھوٹا رکھیں۔ عمران خان سے ملاقات کے بعد داہگل ناکہ پر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات نہ ہونے کے معاملے میں پارٹی لیڈرز کو کہا گیا کہ سب ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ جا کر ملاقات کرنے کی پٹیشنز فائل کریں، یہ ہدایت سلمان اکرم راجہ کو پہنچا دی جائیں گی۔عظمی خان نے کہا کہ ملاقات میں بانی کو کے پی کے جلسے کے بارے میں آگاہ کیا، اس پر انھوں نے خوشی کا اظہار کیا، بانی کو کہا کہ سب کی ڈیمانڈ لانگ مارچ کی تھی جس پر وہ ہنس دیٔے۔عظمی خان نے کہا کہ ہمیں اور مجھے عدالت سے کوئی امید نہیں، بانی نے وزیراعلیٰ کے پی کو پیغام دیا ہے کہ آپ اپنی مرضی سے چھوٹی ٹیم چنیں، بانی نے واضح کیا کہ انھوں نے کسی کا نام تجویز نہیں کیا، اس کا اختیار وزیراعلیٰ کے پاس ہے، عمران خان نے سلمان اکرم راجہ کے لئے پیغام دیا کہ پارٹی کے پیغامات ان کے ذریعے بجھواؤں گا۔عظمی خان کے مطابق عمران خان نے علامہ راجہ ناصر عباس اورمحمود خان اچکزئی کی تقرری کا نوٹی فکیشن جاری نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا، بانی نے کہا کہ احمد چھٹہ اور بلال اعجاز کو کس نے عہدوں سے اتارا، وہ میرے پرانے ساتھی ہیں، بانی نے کہا کہ توہین عدالت فوری طور پر فائل کی جائیں اور تاریخ لیے بغیر ہائیکورٹ سے نہ اٹھیں۔بعدازاں بانی پی ٹی آئی کی بہنیں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیے بغیر روانہ ہوگئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 10 جون کو ملک بھر سے پارلیمنٹیرین اسلام آباد پہنچ کر قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔اڈیالہ روڈ سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کی جماعت کی حکومت ہے اور صوبے کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، اس لیے عوام کی خواہش ہے کہ صوبائی بجٹ ان کی ہدایات اور ترجیحات کے مطابق مرتب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بجٹ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے ان کی منظوری حاصل کی جائے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، امن عامہ کی صورتحال اور اہم امور پر تبادلۂ خیال
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور امید ہے کہ اس مرتبہ ملاقات کی اجازت مل جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انہیں ناحق قید رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ پیدا ہوا جبکہ عوام میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی جا رہی۔
مایوسی کا دور ختم ، ہم ایک ماہ میں پوسٹ حج آپریشن کامیابی سے مکمل کریں گے: کنٹری منیجر ظہیرالدین آغا
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے اور صرف وہی وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات بیرسٹر گوہر کی درخواست پر ہوئی تھی، علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور کسی کی خوشنودی کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور پاکستان کو خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے، خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ میں سماجی بہبود، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔کرپشن کے الزامات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور اگر کسی کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے۔
بری طرح تھکا ہوا تھا، خستہ حال بے خوابی سے بوجھل سوجی آنکھوں میں نیند کی شدت کا درد، آتے ہی چارپائی پر ایسا گرا کہ شام تک ہوش ہی نہیں آیا
مزید :