یورپی پارلیمنٹ کے 10رکنی وفد کا دورہ حیدرآباد
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) یورپی پارلیمنٹ کے 10 اراکین پر مشتمل وفد نے حیدرآباد کا دورہ کیا اور سندھ میں چھوٹے کاروباروں کو فروغ دینے کے لیے گراسپ پروجیکٹ کے تحت یورپی یونین کی مالی امداد کے اثرات کا جائزہ لیا۔ یوروپی پارلیمنٹ کے ایک وفد نے جس میں لوکاس مینڈل، ٹامس زیڈیچوسکی، جوآن فرنینڈو، رابرٹ بیڈرون اور مارک جونگن کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کے نمائندے کرسچن بین ہیل، باربرا رکسن، کرسچن میسیتھ، ٹریسا میسیتھا جانکوف اور کیمنٹ میسیتھا کے ساتھ حیدرآباد کا دورہ کیا اور چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے دی جانے والی مالی امداد کے اثرات کا جائزہ لیا۔ یورپی وفد نے یوسی سانون خان گوپانگ کے گائوں آبڑی میں 5 لاکھ روپے کی امداد خواتین کے زیر انتظام چلنے والے کاروباری ادارے ‘فضا دیسی گھی’ کی پیداواری ترقی اور وہاں خواتین کو میسر روزگار کا مشاہدہ بھی کیا۔ اس موقع پر وفد کے ارکان نے مقامی لوگوں سے امداد کی افادیت کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور منصوبے کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔ وفد کے رہنما ایم پی لوکس منڈل کا کہنا تھا کہ انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ یورپی یونین کے مالی تعاون سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو مقامی سطح پر ترقی کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ انہوں کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ مالی امداد سے کیلے کے چھوٹے کاشتکاروں اور ڈیری فارمرز کے کاروبار کو جدید طریقوں سے مزید ترقی مل رہی ہے۔آئی ٹی سی کی نمائندگی کرتے ہوئے ایس ایم ایز ڈویلپمنٹ اسپیشلسٹ عمر عارف نے کہا کہ گراسپ پراجیکٹ کے تحت دیہی کاروباروں کو مالی مدد، تربیت اور مارکیٹ تک رسائی کے ذریعے بھرپور تعاون کیا جا رہا ہے۔ پی پی اے ایف کے گراسپ آپریشنز آفیسر سہیل خان بنگش نے کہا کہ گراسپ سے مقامی معیشت مضبوط ہو رہی ہے اور یہ امداد نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی ترقی کا باعث بن رہی ہے۔ ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سافکو ذیشان میمن نے امید ظاہر کی کہ یورپی یونین مستقبل میں دیہی خواتین کی کاروباری ترقی پر توجہ مرکوز کرنے والے منصوبوں کی حمایت جاری رکھے گی۔ گراسپ پروجیکٹ یورپی یونین کی مالی اعانت سے مال مویشیوں اور زرعی پیداوار سے وابستہ چھوٹے اور درمیانے کاروباری اداروں اور افراد کی ترقی کے لیے انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر، اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن، سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، اور پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کے اشتراک سے سافکو کے تحت جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یورپی یونین رہی ہے
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔