مالٹا :برٹش پاکستانی باپ بیٹا سمندر میں ڈوب کر جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک : مالٹا میں چھٹیاں منانے والے ایک برٹش پاکستانی باپ اور بیٹا افسوسناک حادثے میں سمندر میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔
اطلاعات کے مطابق اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے راجا قدوس بنارس اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ مالٹا میں تعطیلات گزارنے گئے تھے۔ وہ اپنے کمسن بیٹے کے ساتھ ساحلِ سمندر پر نہا رہے تھے کہ اچانک تیز لہروں نے بچے کو بہا لیا۔
بیٹے کو بچانے کی کوشش میں راجا قدوس بنارس فوراً سمندر میں کود گئے، تاہم وہ خود بھی پانی کے زور دار بہاؤ میں پھنس گئے اور واپس نہ آ سکے۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر مقامی ریسکیو ٹیموں نے فوری سرچ آپریشن شروع کیا، جس کے بعد کچھ دیر میں دونوں باپ بیٹے کی لاشیں سمندر سے نکال کر قریبی اسپتال منتقل کر دی گئیں۔
لیسکو کا سموگ کے دوران بجلی بریک ڈاؤن سے بچاؤ کیلئے اقدامات کا آغاز
پولیس کے مطابق ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ واقعہ محض ایک افسوسناک حادثہ تھا اور اس میں کسی قسم کی مجرمانہ کارروائی کا کوئی پہلو سامنے نہیں آیا۔
اہلِ خانہ نے پاکستانی ہائی کمیشن سے لاشوں کی وطن منتقلی میں معاونت کی درخواست کر دی ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد میں مرحومین کے رشتہ دار اور دوست احباب شدید غم و صدمے میں مبتلا ہیں۔ علاقے میں سوگ کی فضا ہے اور مقامی سطح پر تعزیت کے لیے آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔
ماضی کی معروف اداکارہ سیمی زیدی کس حال میں اور کہاں؟
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک