شرکائے اجلاس نے اس امر پر سخت تشویش کا اظہار کیا کہ گزشتہ ہفتوں میں مرکزی انجمن امامیہ اور ذیلی انجمنوں کی جانب سوشل میڈیا پرتوہین مذہب کے ارتکاب میں تقریباً پچیس (25) کے قریب افراد کے خلاف مختلف تھانوں میں درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں، مگر اس کے باوجود متعلقہ افراد کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان کی مجلسِ عاملہ کا ایک اہم اجلاس زیرِ صدارت قائد ملتِ جعفریہ گلگت بلتستا آغا سید راحت حسین الحسینی جامع امامیہ مسجد کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ذیلی انجمنوں کے صدور، مشاورتی کونسل کے اراکین، ہئیت آئمہ جماعت کے نمائندگان اور ملی تنظیموں کے ذمہ داران نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس کے دوران موجودہ حالاتِ امن و امان، ملتِ جعفریہ کے نوجوانوں کی بلا جواز گرفتاریوں، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دوہری پالیسیوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ شرکائے اجلاس نے اس امر پر سخت تشویش کا اظہار کیا کہ گزشتہ ہفتوں میں مرکزی انجمن امامیہ اور ذیلی انجمنوں کی جانب سوشل میڈیا پرتوہین مذہب کے ارتکاب میں تقریباً پچیس (25) کے قریب افراد کے خلاف مختلف تھانوں میں درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں، مگر اس کے باوجود متعلقہ افراد کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی، جبکہ دوسری جانب ملت تشیع کے پرامن نوجوانوں کو بلا جواز گرفتار کیا جا رہا ہے۔ یہ طرزِ عمل ریاستی انصاف، عدل اور مساوات کے اصولوں کے سراسر منافی ہے۔ اجلاس میں واضح طور پر کہا گیا کہ دو طرفہ اور متعصبانہ پالیسی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

مزید برآں، اجلاس میں سال 2022ء میں قائد ملتِ جعفریہ آغا سید راحت حسین الحسینی کے قافلے پر ہونے والی فائرنگ کے واقعے کو بھی شدت سے اُجاگر کیا گیا۔ اس افسوسناک واقعے میں ملت کے دو بے گناہ نوجوان شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ اجلاس میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ اتنے عرصے گزر جانے کے باوجود ان شہداء کے قاتلوں کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا۔ اجلاس نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی ازسرِنو تحقیقات کی جائیں اور اصل محرکات و ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اجلاس کے اختتام پر تمام ذیلی انجمنوں، ہیئت آئمہ جماعت، مشاورتی کونسل اور ملی تنظیموں کے نمائندگان نے مرکزی انجمن امامیہ اور قائد ملتِ جعفریہ آغا سید راحت حسین الحسینی کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ہر سطح پر ان کے فیصلوں پر لبیک کہنے اور آئندہ کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کے عزمِ مصمم کا اظہار کیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ ملت کے حقوق کے تحفظ، انصاف کی فراہمی، اور گلگت بلتستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے متحدہ جدوجہد کو مزید منظم اور مؤثر انداز میں جاری رکھا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مرکزی انجمن امامیہ ذیلی انجمنوں کا اظہار کیا اجلاس میں کیا گیا

پڑھیں:

’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘

طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔

سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
 

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف