ٹیکنالوجی کمپنی ایپل ایک دوسری ماریہ ناز ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے ساتھ ایک ایسے معاہدے کے قریب ہے جس کے تحت آئی فون بنانے والی یہ کمپنی گوگل کو ہر سال تقریباً ایک ارب ڈالر ادا کرے گی۔

اس معاہدے کے تحت گوگل کے جیمنی اے آئی ماڈل کے ایک مخصوص کسٹم ورژن کے ذریعے ایپل اپنے ورچوئل اسسٹنٹ سری کو نئے سرے سے ترتیب دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

Apple Paying Google $1B/Year to Power Siri with Gemini AI

Apple finalizing deal to use Google’s 1.

2T parameter Gemini model for Siri overhaul. Launch spring 2026.

Key points:
– Apple tested ChatGPT, Claude, and Gemini before selecting Google
– 8x larger than current 150B… pic.twitter.com/6qZE3KrHKD

— Perplexity Finance (@PPLXfinance) November 5, 2025

یہ قدم ایپل کے لیے ایک بڑا تغیر ہے، کیونکہ کمپنی روایتی طور پر اپنی ٹیکنالوجی پر انحصار کرتی رہی ہے۔

تاہم، فی الحال وہ گوگل کے ماڈل کو ایک عارضی حل کے طور پر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جب تک کہ اس کا اپنا مصنوعی ذہانت کا نظام اتنا طاقتور نہ ہو جائے کہ وہ آنے والی فیچرز کی نئی فہرست کو خود چلا سکے۔

گوگل کا یہ حسبِ ضرورت تیار کردہ اے آئی ماڈل تقریباً 1.2 ٹریلین پیرامیٹرز پر مشتمل ہے، جو سافٹ ویئر کی پیچیدگی اور صلاحیت کا پیمانہ ہے۔

اس کے مقابلے میں ایپل کے موجودہ ایپل انٹیلیجنس ماڈل میں صرف 150 بلین پیرامیٹرز ہیں، یعنی گوگل کا ماڈل تقریباً 8 گنا زیادہ طاقتور ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ایپل نے اس سال کے آغاز میں اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے ماڈلز پر بھی غور کیا تھا۔

تینوں کمپنیوں کے ماڈلز کی جانچ کے بعد، ایپل نے گوگل کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بلوم برگ کا کہنا ہے کہ نیا سری ممکنہ طور پر آئندہ بہارکے موسم میں لانچ کیا جائے گا، تاہم چونکہ اس میں ابھی کئی ماہ باقی ہیں، اس لیے منصوبے میں تبدیلی بھی ممکن ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: گوگل کے اے ا ئی

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
  • Google سیلفی ویڈیو فیچر، اکاؤنٹ سائن اِن مزید محفوظ بنانے کا نیا طریقہ
  • امریکا نے ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقاتی و تعلیمی اداروں پر پابندی لگادی
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری