تجربہ کار کھلاڑی نئی نسل کے لیے مشعل راہ ہیں، گورنر سندھ
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے ویٹرنز کرکٹ اور کھیلوں کے فروغ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ تجربہ کار کھلاڑی نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ویٹرنز کرکٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین فواد اعجاز خان سے گورنر ہاؤس کراچی میں ملاقات کے دوران کیا۔ملاقات میں ویٹرنز کرکٹ کی خدمات، ملک میں کھیلوں کے فروغ اور کرکٹ کے ذریعے مثبت سرگرمیوں کے فروغ سے متعلق تفصیلی گفتگو ہوئی۔ چیئرمین فواد اعجاز خان نے گورنر سندھ کو اوور 40 ٹی20 ورلڈ کپ 2025 کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی۔بتایا گیا کہ ٹورنامنٹ کی افتتاحی تقریب 21 نومبر کو منعقد کی جائے گی، جس میں بین الاقوامی ویٹرنز ٹیمیں شرکت کریں گی جبکہ تقریب میں شاندار آتشبازی بھی شامل ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔