بلاک 13ڈی کے پلاٹ نمبر اے 1اور اے 2مشترکہ پلاٹوں پر غیرقانونی تعمیرات
ڈائریکٹر شاہد خشک کی پشت پناہی حاصل،انتظامیہ کی شرمناک خاموشی پر شہری ناراض

شہرِ قائد کے معروف رہائشی علاقے گلشن اقبال کے بلاک 13ڈی میں واقع پلاٹ نمبر اے 1اور اے 2پر واضح طور پر خلافِ ضابطہ اور غیر قانونی کمرشل تعمیرات کا کام تیزی سے جاری ہے ،جس پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر شاہد خشک کی پشت پناہی کے گہرے شبہات پیدا ہوئے ہیں۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے ، کہ یہ پلاٹ مکمل طور پر رہائشی زون میں واقع ہیں،جہاں کسی بھی قسم کی بڑی کمرشل تعمیر کی اجازت نہیں ہے ۔ تاہم، مذکورہ پلاٹوں پر تیز رفتاری سے تجارتی مقاصد کے لیے وسیع و عریض تعمیراتی کام جاری ہے ، جس سے نہ صرف علاقے کا روایتی پُرسکون ماحول برباد ہو رہا ہے بلکہ بنیادی ڈھانچے ، نکاسی آب اور پارکنگ پر بھی غیر معمولی دباؤ پڑ رہا ہے ۔مقامیوں کا الزام ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعلقہ افسران اور فیلڈا سٹاف کو متعدد بار اطلاع دینے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔بلکہ، تعمیراتی کام بلا روک ٹوک جاری ہے ۔ یہ صورتحال اس خدشے کو تقویت دے رہی ہے کہ تعمیراتی مافیا کو متعلقہ محکمے کے اندرونی لوگوں کی حمایت حاصل ہے ،جو نہ صرف قوانین کی خلاف ورزی پر چشم پوشی اختیار کر رہے ہیں بلکہ ان غیر قانونی کاموں میں ملوث بھی ہو سکتے ہیں۔رہائشیوں نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے سربراہان سے فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر تعمیراتی کام نہ روکا گیا اور غیر قانونی ڈھانچے گرائے نہ گئے ، تو وہ اعلیٰ عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہوں گے ۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ترجمان سے جب اس معاملے پر رائے طلب کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ’’معاملہ ہماری نظر میں ہے اور متعلقہ فائل کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ قانون کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر مناسب کارروائی کی جائے گی‘‘۔ تاہم، رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ ’’جائزے ‘‘ محض حربے ہیں، جن کے پیچھے چھپ کر غیر قانونی تعمیرات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جا رہا ہے۔ شہری حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر کراچی میں تعمیراتی انارکی اور مافیا کا خاتمہ کرنا ہے تو سب سے پہلے ان محکموں کے اندر موجود ‘‘سرپرستوں’’ کی شناخت کر کے ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنی ہوگی، جن کی چھتری تلے یہ سب کچھ ہو رہا ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے رہا ہے

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل