لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ٹریفک آرڈیننس پر عمل درآمد روکنے کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ٹریفک قوانین ہر صورت نافذ رہیں گے اور قانون پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ آرڈیننس معطل کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا۔

اس سے قبل پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ ٹریفک آرڈیننس روکنے سے متعلق کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا، اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی جاری رہے گی۔

دوسری جانب وزیرِ ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے ہڑتالی ٹرانسپورٹرز سے مذاکرات کے بعد اعلان کیا تھا کہ اُن کے مسائل کے حل کے لیے کمیٹیاں بنائی جارہی ہیں اور ’’عارضی‘‘ طور پر ٹریفک آرڈیننس کو معطل کیا جارکھا ہے، جبکہ جرمانوں پر بھی فی الحال عمل نہیں ہوگا۔ ان کے اس اعلان کے بعد متحدہ ٹرانسپورٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین عصمت اللہ نیازی نے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم مریم نواز اور مریم اورنگزیب کی جانب سے آرڈیننس معطل نہ ہونے کے واضح بیانات کے بعد ٹرانسپورٹرز میں ابہام پیدا ہوگیا ہے، اور چیئرمین ایکشن کمیٹی نے کہا ہے کہ صورتحال واضح نہ ہوئی تو وہ دوبارہ لائحہ عمل طے کریں گے۔

ادھر مِنی مزدا ایسوسی ایشن پاکستان کے صدر شیر علی نے مؤقف اپنایا ہے کہ ٹریفک آرڈیننس کی معطلی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ہونے تک ہڑتال جاری رہے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ٹریفک آرڈیننس

پڑھیں:

اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔

این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔

دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔

جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔

فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

متعلقہ مضامین

  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا