وارسا: پولینڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے باقی ماندہ سوویت دور کے مِگ-29 لڑاکا طیارے یوکرین کے حوالے کرے گا، اور بدلے میں یوکرین سے جدید ڈرون ٹیکنالوجی حاصل کرے گا۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق پولینڈ نے اپنے پرانے مِگ طیاروں کی جگہ بڑی حد تک امریکی ایف-16 اور جنوبی کوریا کے ایف اے-50 لڑاکا طیارے شامل کر لیے ہیں، جبکہ امریکا سے آرڈر کیے گئے 32 ایف-35 طیاروں کی ترسیل کا بھی انتظار ہے۔

پولینڈ کے وزیر دفاع ولادیسلاو کوسینیاک-کامیژ نے سرکاری ریڈیو سے گفتگو میں بتایا کہ مِگ-29 طیارے اپنی سروس لائف کے آخری مراحل میں پہنچ چکے ہیں، اسی لیے انہیں پولش فضائیہ سے ہٹایا جا رہا ہے، اور ان کی یوکرین کو منتقلی پر بات چیت جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس مجوزہ معاہدے میں خاص طور پر ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی کے تبادلے کا امکان موجود ہے، جو یوکرین سے پولینڈ منتقل کی جا سکتی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 2022 میں روسی حملے کے بعد پولینڈ پہلے ہی اپنے متعدد مِگ-29 طیارے یوکرین کو دے چکا ہے، جبکہ اس وقت اس کے پاس ایسے 14 طیارے باقی ہیں۔

وزیر دفاع کے مطابق مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں اور پولینڈ ان کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کا خواہاں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان