عبدالعلیم خان کی موٹر ویز پر پٹرولنگ بڑھانے، سکیورٹی سخت کرنے اور موٹر بائیک سروس شروع کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 جنوری2025ء)وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے موٹر ویز پر پٹرولنگ بڑھانے اور سکیورٹی سخت کرنے کا ٹاسک سونپتے ہوئے موٹر ویز پر سکیورٹی و سرویلنس کیلئے موٹر بائیک سروس کا پائلٹ پراجیکٹ شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزارت مواصلات کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے انسپکٹر جنرل موٹر وے پولیس کو پٹرولنگ بڑھانے اور سکیورٹی سخت کرنے کا ٹاسک سونپا ہے۔
وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ موٹر وے پر بیک وقت 30 سے 35 موٹر بائیکس کو مختلف سیکٹرز میں پٹرولنگ کرتے رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں موٹر وے پولیس اپنے وسائل سے بائیک سروس شروع کرے جس میں مزید اضافہ کریں گے۔ وفاقی وزیر مواصلات نے کہا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ ای)، موٹر وے پولیس، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) اور ضلعی پولیس مشترکہ اقدامات کو یقینی بنائے۔(جاری ہے)
وفاقی وزیر مواصلات نے کہا کہ موٹر وے کے گرد حفاظتی باڑ کی چوری کی روک تھام کے لئے موثر حکمت عملی اختیار کی جائے۔ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے موٹر وے پولیس کے اختیارات کے لئے قانون سازی میں ترمیم کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کی حفاظت کیلئے موٹر وے پولیس کو زیادہ سے زیادہ ذمہ داری لینا ہوگی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ایسا میکنزم اختیار کیا جائے کہ موٹر وے پر سفر کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنایا جا سکے، موٹر وے پر جہاں جرائم اور باڑ چوری کے واقعات زیادہ ہیں ان کی نشاندہی کریں۔ وفاقی وزیر مواصلات نے کہا کہ جس علاقے میں باڑ چوری ہوگی، وہاں کا این ایچ اے آفیسر اور موٹر وے پولیس ذمہ دار ہوگی، جن ایریاز میں حفاظتی باڑ ٹوٹ چکی ہے یا چوری ہو گئی ہے، وہاں نئی باڑ کا بندوبست کیا جائے۔ وفاقی وزیر مواصلات نے کہا کہ آئی جی موٹر وے مقامی پولیس کے ہمراہ باڑ چوری کے کیسوں کی مکمل پیروی کو یقینی بنائیں۔ وفاقی وزیر نے سیکرٹری مواصلات کو ایک ہفتے میں مربوط اقدامات کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: عبدالعلیم خان
پڑھیں:
پہاڑوں پر برف پگھلنے سے دریا کمراٹ کے بہاؤ میں اضافہ، صورتحال خطرناک ہونے لگی
اپر دیر:سیاحتی مقام کمراٹ میں برف پگھلنے سے دریا کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہونے لگا جو کسی بھی وقت خطرناک صورتحال اختیار کر سکتی ہے۔
سیاحتی مقام وادی کمراٹ کی بائی پاس سڑک دریا کے پانی میں بہہ گئی تاہم گاڑیوں کی آمدورفت جاری ہے۔
وادی کمراٹ بائی پاس روڈ پر پانی کا بہاؤ زیادہ ہونے کی وجہ سے موٹر سائیکل سوار بہہ گیا تاہم مقامی افراد اور امدادی ٹیموں نے موٹر سائیکل سوار کو بچایا لیا جبکہ موٹر سائیکل پانی میں لاپتا ہوگئی۔
دوسری جانب، پی ڈی ایم اے کی جانب سے گزشتہ روز ہونے والی تیز ہواؤں، آندھی اور بارش کے باعث گھروں کی دیواریں اور چھتیں گرنے سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی گئی۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز آندھی اور بارش کے باعث آسمانی بجلی اور گھروں کی دیواریں گرنے سے اب تک 2 افراد جاں بحق جبکہ 31 افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں دو مرد جبکہ زخمیوں میں 7 خواتین، 16 مرد اور 8 بچے شامل ہیں۔
حادثات صوبے کے مختلف اضلاع پشاور، چارسدہ، نوشہرہ اور بنوں میں پیش آئے۔ پی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں اور آپس میں قریبی رابطہ میں ہیں۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے تمام متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین کو جلد از جلد ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔ بارش اور تیز ہواؤں کا موجودہ سلسلہ 5 جون تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔
پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے عوام کسی بھی معلومات، آگاہی یا کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع 1700 پر دیں۔