کانگریس لیڈر نے کہا کہ الگ الگ ریاستوں کی صورتحال کے حساب سے کانگریس ہو یا علاقائی پارٹیاں ہوں وہ فیصلہ کرتی ہیں کہ ہمیں متحد ہوکر لڑنا ہے یا الگ الگ ہوکر لڑنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پارلیمانی الیکشن 2024ء میں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے ارادے سے بنایا گیا "انڈیا الائنس" کیا ختم ہوچکا ہے۔ یہ سوال اس وقت عوام کی طرف سے بھی پوچھا جا رہا ہے کیونکہ راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر تیجسوی یادو کے بعد کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ یہ الائنس صرف پارلیمانی الیکشن تک ہی تھا۔ انڈیا الائنس سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں پون کھیڑا نے کہا کہ یہ الائنس پارلیمانی الیکشن کے لئے تھا اور قومی سطح پر تھا۔ انہوں نے کہا کہ الگ الگ ریاستوں کی صورتحال کے حساب سے جو پارٹیاں ہیں، کانگریس ہو یا علاقائی پارٹیاں ہوں وہ فیصلہ کرتی ہیں کہ ہمیں متحد ہو کر لڑنا ہے یا الگ الگ ہوکر لڑنا ہے۔

اس سے پہلے بکسر میں ورکر درشن کم ڈائیلاگ پروگرام میں راشٹریہ جنتا دل (آرجے ڈی) لیڈر اور سابق نائب وزیراعلیٰ تیجسوی یادو نے بھی واضح طور پر کہا کہ ہندوستان اتحاد ختم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتحاد صرف پارلیمانی انتخابات 2024ء تک تھا اور الیکشن ختم ہونے کے بعد الائنس بھی ختم ہوگیا ہے۔ دراصل عام آدمی پارٹی اور کانگریس دونوں ہی انڈیا الائنس کا حصہ ہیں، لیکن دونوں پارٹیاں دہلی الیکشن الگ الگ لڑرہی ہیں اوراس دوران دونوں کے درمیان سخت نوک جھونک بھی دیکھنے کو ملی ہے۔ دہلی الیکشن سے پہلے عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے درمیان تلخ نوک جھونک پر جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ اپوزیشن متحد نہیں ہے، اس لئے انڈیا الائنس کو تحلیل کردینا چاہیئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن