تفتان میں ایف آئی اے کی بڑی کارروائی، 33 بنگلہ دیشی شہری گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے ایک اہم کارروائی کے دوران 33 بنگلہ دیشی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار افراد غیر قانونی طور پر پاکستان سے باہر جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق یہ افراد وزٹ ویزے پر پاکستان آئے تھے مگر انہوں نے قانونی راستوں کو اپنانے کے بجائے ماشکیل بارڈر، ضلع چاغی کے راستے سرحد عبور کرنے کی کوشش کی۔ کارروائی فرنٹیئر کور (ایف سی) کے تعاون سے عمل میں لائی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: ایف آئی اے کی بڑی کارروائی: غیر قانونی بارڈر کراسنگ کی کوشش ناکام، 20 بنگلہ دیشی باشندے گرفتار
ایف آئی اے کے مطابق گرفتار افراد کے پاس سفر کے لیے مطلوبہ قانونی دستاویزات موجود نہیں تھیں اور نہ ہی وہ تفتیش کے دوران کسی تسلی بخش جواب دے سکے۔ ادارے نے ان افراد کو حراست میں لے کر مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف ایسے اقدامات مستقبل میں بھی جاری رہیں گے تاکہ غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایف آئی اے بنگلہ دیش تفتان سمگلنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایف ا ئی اے بنگلہ دیش تفتان سمگلنگ ایف آئی اے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔