ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر کے نوٹس پر بلوچستان یونیورسٹی کے غیر مستقل ملازمین کی مستقل تعیناتی
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر کی ہدایت پر بلوچستان یونیورسٹی کے غیر مستقل ملازمین کی میرٹ پر مستقل تعیناتی کر دی گئی۔ متاثرہ ملازمین کی درخواست پر سیدال خان ناصر نے معاملہ سینٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی آف ایجوکیشن کے سپرد کیا تھا۔
2 جنوری کو سینیٹر بشریٰ انجم بٹ کی صدارت میں سینٹ ایجوکیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد، وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی ڈاکٹر ظہور احمد بازئی اور دیگر کمیٹی اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے غیر مستقل ملازمین کے مسئلے کو میرٹ پر حل کرنے پر زور دیا، جس پر کمیٹی کے بیشتر اراکین نے ان کے موقف کی تائید کی۔
آج بلوچستان یونیورسٹی نے اپنے اعلامیے میں اعلان کیا کہ تمام متاثرہ غیر مستقل ملازمین کو مستقل بنیادوں پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ متاثرہ ملازمین نے اس کامیابی پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر کا شکریہ ادا کیا اور ان کی کوششوں کو سراہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: غیر مستقل ملازمین سیدال خان ناصر
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
سٹی 42: سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔
توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت کے پندرہ روزہ نظام کے بجائے روزانہ قیمتوں کے تعین کے مجوزہ فیصلے پر وضاحت طلب کی گئی۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے روزانہ قیمتوں کے تعین کے ممکنہ مہنگائی پر اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔
نوٹس متن کے مطابق مجوزہ نظام سے ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے،توجہ دلاؤ نوٹس میں کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات اور نفاذ کے طریقہ کار کی تفصیلات طلب کر لیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
نوٹس میں صارفین کو قیمتوں کے غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لیے مجوزہ اقدامات سے بھی آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا.