اسلام آباد ہائیکورٹ کے نوٹس پر سینیٹ میں شدید ہنگامہ، اٹارنی جنرل کو طلب کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ کے نوٹس پر سینیٹ میں شدید ہنگامہ، اٹارنی جنرل کو طلب کرنے کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 25 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) ہائیکورٹ کی جانب سے سینیٹ کمیٹیوں کی کارروائی پر نوٹسز کا معاملہ ایوان میں شدید ہنگامے کا باعث بنا، ارکان نے عدالتی مداخلت کو پارلیمانی خودمختاری کے خلاف قرار دیتے ہوئے اٹارنی جنرل کو فوری طور پر طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔
سینیٹ اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سینیٹ کمیٹیوں کی کارروائی پر نوٹسز کا معاملہ شدید تنقید کا نشانہ بنا۔ارکان نے اسے پارلیمنٹ کے اختیارات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اٹارنی جنرل کو فوری طلب کرنے کا مطالبہ کیا، اجلاس میں نو منتخب ارکان نے حلف اٹھایا، جب کہ ہاوسنگ، بی آئی ایس پی، اسرائیل کی جارحیت اور ادبی اداروں کی بندش جیسے اہم معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔
اجلاس کا آغاز پریزائیڈنگ افسر عرفان صدیقی کی زیر صدارت ہوا، سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے سینیٹ کمیٹیوں کی کارروائی پر نوٹس لینے کے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ پارلیمانی اختیارات میں مداخلت ہے اور اٹارنی جنرل کو فوری طور پر ایوان میں طلب کیا جائے تاکہ وہ وضاحت دے سکیں۔
اس پر پریزائیڈنگ افسر شہادت اعوان نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل کو نوٹس بھجوایا جائے گا، اجلاس میں نو منتخب سینیٹر روبینہ ناز نے حلف اٹھایا۔وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر ہاوسنگ ریاض پیرزادہ نے انکشاف کیا کہ اربوں روپے کے فلیٹس تو تعمیر ہو چکے ہیں لیکن پانی کی سہولت موجود نہیں، منصوبہ بندی کی کمی اور بااثر افراد کی مداخلت کے باعث کئی اسکیمیں تاخیر کا شکار ہیں۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ایف جی ایچ اے کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر بینک اسٹیٹمنٹس نکالی جائیں تو کئی وزرا کے نام سامنے آئیں گے۔بی آئی ایس پی کے آڈٹ میکانزم پر بھی سوالات اٹھائے گئے، جن پر وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے وضاحت دی کہ پرانا طریقہ کار ہی جاری ہے۔سینیٹر ذیشان خانزادہ نے ٹیرف ریفارم پالیسی پر عدم عملدرآمد کو برآمدات میں رکاوٹ قرار دیا، سینیٹر ہمایوں مہمند نے ناقص منصوبہ بندی کو سیدپور اور نجی سوسائٹیز میں حادثات کا سبب قرار دیا۔
سینیٹر پلوشہ خان نے اسرائیل کی مغربی کنارے پر قبضے کی حالیہ قرارداد کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور کہا کہ پاکستان کی خاموشی اس معاملے میں قابل قبول نہیں۔ سینیٹ نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف متفقہ مذمتی قرارداد منظور کی۔اجلاس میں اکادمی ادبیات اور دیگر علمی اداروں کی ممکنہ بندش پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور حکومت سے ان اداروں کے تحفظ کی فوری اپیل کی گئی۔ اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرہفتہ وار مہنگائی کی شرح بڑھ کر 4.07فیصد ہو گئی ، 14اشیائے ضروریہ مزید مہنگی ہفتہ وار مہنگائی کی شرح بڑھ کر 4.07فیصد ہو گئی ، 14اشیائے ضروریہ مزید مہنگی پی ڈی ایم اے پنجاب نے مون سون بارشوں کے پانچویں اسپیل کا الرٹ جاری کردیا چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس،نالوں پر قائم تجاوزات کے فوری خاتمے کی ہدایت لندن ہائیکورٹ، عادل راجہ کو پاکستانی انٹیلی جنس اداروں کیخلاف جھوٹے ثبوت دینے پر ہزیمت کا سامنا تاجکستان کے چیف آف جنرل سٹاف کی جوائنٹ چیفس جنرل ساحر شمشاد سے ملاقات،دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق صدر مملکت سے سعودی سفیر کی ملاقات، تجارت، معیشت، ثقافت پر تبادلہ خیال
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: طلب کرنے کا مطالبہ اٹارنی جنرل کو اسلام آباد اجلاس میں کہا کہ
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔