پاکستان میں آئین اور قانون کی پاسداری نہیں ہے‘قاسم جمال
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2025 GMT
نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور این ایل ایف کراچی کے جنرل سیکرٹری محمد قاسم جمال اسلام آباد میں این آئی آر سی کے سابق ممبر ممتاز قانون دان نور زمان خان سے ملاقات کر رہے ہیں، اس موقع پر این ایل ایف کے مرکزی صدر شمس الرحمان سواتی بھی موجود ہیں
آئی ایل او لیبر کوڈ سندھ اور پنجاب ٹریڈ یونینز کو مکمل پر ختم کرنے کی سازش ہے۔ سرمایہ داروں کی ملی بھگت سے آئی ایل او لیبر کوڈ محنت کشوں پر مسلط کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔پوری قوت کے ساتھ لیبر کوڈ کے خلاف مزاحمت کریں گے۔ یہ بات نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور این ایل کراچی کے جنرل سیکرٹری محمد قاسم جمال نے اسلام آباد کے دورے کے دوران این آئی آر سی کے سابق ممبر اور سپریم کورٹ کے معروف سینئر قانون دان نور زمان خان سے خصوصی ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر شمس الرحمان سواتی بھی موجود تھے۔ قاسم جمال نے سندھ لیبر کوڈ، پنجاب لیبر کوڈ اور محنت کشوں کے دیگر مسائل اور ٹریڈ یونینز کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ گل زمان خان نے اس موقع پر اپنی گفتگو میں کہا کہ سرمایہ دار اور حکومت مشترکہ مفاد کے لیے ایک ہو گئے ہیں۔ محنت کشوں کی یونینز اور فیڈریشنز کو بھی اپنے وسیع ترمفاد میں ایک ہونا ہو گا اور مشترکہ جدوجہد کرنا ہو گی۔ ٹھیکہ داری نظام ٹریڈ یونینز کے لیے زہر قاتل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قاسم جمال
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔