لبنان کا اقتدار عالمی عدالت انصاف کے جج نواف سلام کے ہاتھوں میں، نئی حکومت کی تشکیل کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2025 GMT
بیروت(انٹرنیشنل ڈیسک)لبنان میں سیاسی خلا کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ لبنانی صدر جوزف عون نے عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے جج نواف سلام کو وزیر اعظم نامزد کیا ہے۔
نواف سلام کی نامزدگی کے بعد 128 نشستوں والی پارلیمنٹ میں سے 84 اراکین نے ان کی حمایت کی، جبکہ 9 اراکین نے نگران وزیر اعظم نجیب میقاتی کے کابینہ بنانے کے حق میں ووٹ دیا۔ 35 اراکین نے دونوں امیدواروں کی حمایت سے انکار کیا۔
نواف سلام اس وقت ہیگ میں عالمی عدالت انصاف کے سربراہ کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور وہ منگل کو لبنان واپس پہنچیں گے۔
لبنان میں گزشتہ دو سال سے نگراں حکومت قائم ہے، اور نواف سلام کی نامزدگی لبنان کی سیاسی عدم استحکام اور اقتصادی بحران کے دوران ایک اہم قدم ہے۔ اس دوران لبنان میں سیاسی تقسیم اور معاشی مشکلات نے عوامی زندگی کو متاثر کیا ہے۔
گزشتہ ہفتے لبنان کی پارلیمنٹ نے آرمی چیف جنرل جوزف عون کو صدر منتخب کیا تھا، جس کے بعد نئی حکومت کے قیام کا عمل شروع ہوا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے نواف سلام کی نامزدگی کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ نواف سلام لبنان میں عوامی حکومت کے قیام میں کامیاب ہوں گے، جس سے لبنان میں تبدیلی کی امیدوں کو تقویت ملے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔