ٹرمپ کے آنے پر کچھ ہوگا سب غلط ہے ، شیخ وقاص اکرم
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان شیخ وقاص اکرم کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے آنے پر کچھ ہوگا سب غلط ہے ، امریکا میں نئی حکومت کی وجہ سے پاکستان سے تعلقات اچھے ہونے پر خطے میں بہتری آئے گی، ایسا تاثر دینا کہ ٹرمپ آئے گا تو کچھ ہوگا غلط ہے، الیکشن کے دوران اور نہ بعد میں ہمارا کوئی وفد ان کے پاس گیا،میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنماء پی ٹی آئی نے کہا کہ جب حالات بہتر ہوتے ہیں تو کچھ عناصر خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔گورنرخیبرپختونخواہ فیصل کریم کنڈی کو کرم کے معاملے پر سیاست نہیں چمکانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور گورنر کا کرم کے معاملے میں کوئی لینا دینا نہیں۔ گورنرخیبرپختونخواہ یہ بتا دیں کہ وہ کتنی مرتبہ کرم گئے ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ ہم ڈھیل نہیں مانگ رہے نہ مذاکرات کو عدالتی فیصلے سے نتھی کیا تھا۔سول نافرمانی کی تحریک پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ فارم 47 سے آئی حکومت کے خلاف تھی۔پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رہنماءپی ٹی آئی نے مزید کہا تھاکہ 6 جنوری کواگر بانی پی ٹی آئی عمران خان کو سزا سنا بھی دی جائے تو بھی مذاکرات جاری رہیں گے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مذاکرات جاری رہنے یا روکنے کا دارو مدار حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی سنجیدگی اور بات چیت میں پیشرفت پر تھی۔ ہم صرف ملک کی خاطر حکومت سے مذاکرات کررہے تھے۔ ہمارے صرف دو ہی مطالبات تھے جن میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت تمام کارکنان کو رہا کیا جائے اور 9مئی و 26 مئی کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء اسد قیصر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا مطالبہ تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت تمام ورکرز کو رہا کیا جائے۔بانی پی ٹی آئی اپنے ورکرزکی رہائی تک جیل سے نہیں نکلیں گے،9مئی اور 26نومبر کے واقعات کی جوڈیشل انکوائری کروائی جائے تحریک انصاف نے کہاتھا کہ ہم نے اپنے مطالبات حکومت کو پیش کر دئیے ہیں۔عمران خان کی رہائی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی تحریک انصاف تھا کہ
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔